The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کیس، ایم کیو ایم کی 13اہم شخصیات کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تیاری

کراچی : منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والی تیرہ اہم شخصیات کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تیاری، منی لانڈرنگ کے زریعے بھارت سے خریدے جانے والے اسلحے کا پتہ بھی چل گیا۔

تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا، تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ایم کیوایم کی 13اہم شخصیات کےنام ای سی ایل میں ڈالنے کی تیاریاں کرلی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کے ان رہنماؤں میں بابرغوری،ارشد وہرہ،رؤف صدیقی، سہیل منصور،جمال ناصر ،طارق میر،احمدعلی کے نام شامل ہیں جبکہ اس فہرست میں دانش لطیف،ریحان منصور،کونین حیدر، زاہد انوربیگ،عبدالوہاب داؤدی،فرخ روشن کے نام بھی شامل ہیں۔

منی لانڈرنگ کے زریعے بھارت سےخریدے جانے والے اسلحے کا پتہ بھی چل گیا، بھارت سے خریدا گیا اسلحہ رینجرز اور سی ٹی ڈی کراچی برآمد کرچکے ہیں، تفتیش کاروں نے اسلحہ برآمدگی بھی منی لانڈرنگ کیس کی تفتیش میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس سے قبل بانی ایم کیو ایم کیخلاف منی لانڈرنگ کے مقدمہ میں تیرہ جوائنٹ بینک اکاؤنٹس کی مجازاتھارٹی میں بڑےنام سامنے آئے تھے جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی تھی۔


مزید پڑھیں : منی لانڈرنگ کیس: فاروق ستار اورمصطفیٰ کمال سمیت بڑے ناموں کا انکشاف


تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ کیلئے13جوائنٹ بینک اکاؤنٹس استعمال ہوئے جو عزیز آباد کے نجی بینکوں کی مختلف برانچوں میں کھولے گئے تھے، جس میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار پی ایس پی چیئرمین مصطفیٰ کمال، ڈپٹی میئر کراچی ارشدوہرا سمیت اعلیٰ قیادت کےنام شامل ہیں۔

یاد رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں بانی ایم کیو ایم اور دیگرملزمان کیخلاف تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چار بینکوں کی فراہم کردہ ابتدائی ٹریل کے مطابق 55 کروڑ روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کی گئی، منی لانڈرنگ کیلئے خدمت خلق فاؤنڈیشن (کے کے ایف) کے اکاؤنٹس استعمال ہوئے، یہ رقم مختلف بینکوںسے ہوتی ہوئی برطانیہ پہنچی۔

غیرقانونی ٹرانزیکشن میں ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ، بابرغوری، خواجہ سہیل منصور، خواجہ ریحان منصور اور سینیٹراحمد علی ملوث ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں