The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ،بانی ایم کیوایم پرفردجرم آج عائد ہونےکاامکان

لندن :  ایم کیوایم کے بانی کے منی لانڈرنگ کیس کی ہونے والی آج سماعت میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں آج اہم پیشرفت کا دن ہے آج کی سماعت میں اسکارٹ لینڈ یارڈ اپنی تحقیقات کی روشنی میں عدالت کے سامنے ٹھوس ثبوت رکھ کرنامزد ملزمان پرفرد جرم عائد کرنے یا نہ کرنے کی استدعا کرے گی۔

منی لانڈرنگ کیس میں بانی ایم کیوایم سمیت مرکزی رہنما طارق میر، محمد انور اور معروف صنعتکار سرفراز مرچنٹ سمیت 6 افراد نامزد ملزمان ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد اور شریک ملزمان پرفرد جرم عائد ہونے کی صورت میں کیس کی سماعت لندن کی عدالت میں ہوگی جس کے لیے ملزمان کو 25 اکتوبر کو عدالت کے سامنے اپنا جواب جمع کروانا ہوگا۔

یاد رہے کہ 16 ستمبر2010 میں ایم کیو ایم کے قتل ہونے والے رہنما ڈاکٹرعمران فاروق کے کیس کی تفتیش کے سلسلے میں 5 دسمبر 2013ء کو ایم کیو ایم کے قائد کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا تھا جہاں سے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے لاکھوں پاؤنڈز برآمد کئے تھے۔

ایم کیو ایم کے قائد اپنے گھر سے برآمد ہونے والی رقم کے قانونی ہونے پراسکاٹ لینڈ یارڈ کو تسلی نہیں کراسکے تھے،جس کے بعد اسکارٹ لینڈ یارڈ نے منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور قائد ایم کیو ایم 4 دن زیر حراست بھی رہے اور پھر طلبی پر پولیس اسٹیشن بھی حاضرہوتے رہے۔

اسکارٹ لینڈ یارڈ نے تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے مغربی لندن میں واقع دو گھروں پرمزید چھاپے مارکردوافراد کو حراست میں لے لیا تھا۔بعد ازاں تحقیقات میں پیشرفت کے بعد ایم کیوا یم کے قائد 3جون 2014 کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیے گیے اور7 جون کو اُنہیں جولائی 2014ء تک ضمانت پررہا کیا گیا۔ اسی سلسلے میں اُنہیں 14 اپریل 2015ء تک ضمانت میں توسیع مل گئی تھی ایم کیوا یم کے قائد 14 اپریل کو ضمانت ختم ہونے پر سینٹرل لندن پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے۔

ایک بار پھرقائد ایم کیو ایم ضمانت میں توسیع دی گئی، اس ضمن میں آخری باراُنہوں نے 26 اگست کو عدالت میں مزید پیشی کے لیے وقت مانگا تھا جو آج ختم ہور ہا ہے۔

واضح رہے عدالت نے قائد ایم کیو ایم کوپولیس اسٹیشن میں حاضری سے مستثنیٰ قراردے دیا تھا جس کے بعد عدالت نے سابقہ پیشی پراسکارٹ لینڈ یارڈ کو اپنی تحقیقات مکمل کرکے 5 اکتوبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے یا ملزمان کو بری کرنے کے حوالے سے کارروائی کا حکم دیا تھا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں