The news is by your side.

Advertisement

منی لانڈرنگ کیس : شریف خاندان کے فرنٹ مین کا وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان

لاہور : شریف فیملی منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے دست راست مشتاق چینی کا وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان ہے، نیب نے احتساب عدالت سے مشتاق چینی کا راہداری ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شریف فیملی منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہبازاور سلمان شہباز کے دست راست کا وعدہ معاف گواہ بننے کا امکان ہے۔

نیب نے احتساب عدالت سے مشتاق عرف چینی کا راہداری ریمانڈ مانگ لیا، جس پر احتساب عدالت کے جج محمد وسیم اختر نےمشتاق عرف چینی کا راہداری ریمانڈ منظور کرلیا۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مشتاق چینی کو اسلام آباد نیب آفس میں پیش کرنا ہے، مشتاق چینی کو منی لانڈرنگ کی تفتیش کے  سلسلے میں چئرمین نیب کے روبرو پیش کرنا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق مشتاق چینی نے اقرار جرم کر کے حقائق بیان کر دیئے ہیں اور دو نجی بنکوں کے ذریعے 37 ٹرانزیکشن سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مشتاق چینی نے بتایا ہے کہ 2 بنکس اکاؤنٹس کے ذریعے 50 کروڑ 44 لاکھ 4 ہزار کی غیر ملکی ترسیلات موصول ہوئیں، سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں 60 کروڑ 30 لاکھ 54 ہزار بذریعہ چیکس منتقل کیے۔ مشتاق چینی نے نیب کو 6 کروڑ 10 لاکھ 27 ہزار 612 روپے کی غیر ملکی ترسیلات کے بارے میں بھی بتا دیا۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے دوران تفتیش مشتاق چینی کے مختلف بنکوں میں 23 بنکس اکاؤنٹس سامنے آئے، جن میں سینکڑوں مشکوک ٹرانزیکشن ہو چکی ہیں جو اربوں روپے کی ہیں، مشتاق چینی نے اپنے اور کمپنی کے نام پر یہ اکاؤنٹس کھلوا رکھے تھے۔

نیب نے بتایا مشتاق چینی ناصرف سہولت کار بلکہ شریف فیملی کا بے نامی دار بھی ہے، مشتاق چینی نے 9 غیر ملکی کرنسی کی مشکوک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ نیب کو فراہم کر دیا ہے، 9 ٹرانزیکشن کے ذریعے 6 کروڑ 10 لاکھ 27 ہزار 612 روپے منتقل ہوئے۔

ذرائع کے مطابق مشتاق چینی کو 12 جنوری 2009 تک تواتر سے غیر ملکی ترسیلات موصول ہوتی رہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد مشتاق چینی کا دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ مشتاق چینی کو  بیرون ملک فرار ہوتے ہوئے لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد مشتاق چینی پی آئی اے کی پرواز 203 سے دبئی روانہ ہو رہا تھا تاہم اس کا نام ای سی ایل میں شامل ہونے پر اسے آف لوڈ کردیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں