موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بی تھری پر برقرار -
The news is by your side.

Advertisement

موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ بی تھری پر برقرار

نیویارک : موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کا آوٹ لک مستحکم ہے تاہم حکومتی قرضے اور مالیاتی خسارہ معاشی ترقی کی راہ میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ریٹنگز ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگز بی تھری پر برقرار رکھی اور پاکستانی معیشت کے آوٹ لک مستحکم قرار دیا ہے، موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور آئندہ دو سال میں یہ بڑھ کر چھ فیصد تک پہنچ جائے گی۔

عالمی ریٹنگز ایجنسی نے2020 تک پاکستان کی جی ڈی پی سات فیصد تک ہونے کی پیشگوئی کی ہے جبکہ ٹیکس وصولی میں پاکستان دیگر ممالک سے کافی پیچھے ہے، ملکی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کاسرسٹھ اعشاریہ چھ فیصد تک پہنچا ہے اور آئندہ دو سال میں اس میں کمی کی توقع نہیں، آئندہ دو برسوں میں مالیاتی خسارہ بھی بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔

عالمی ریٹنگز ایجنسی کا کہنا ہے کہ الیکشن سال ہونے کی وجہ سے حکومتی خراجات میں ممکن نہیں، زرمبادلہ ذخائر اگرچہ بہتر ہیں مگر بڑھتی ہوئی درآمدت کے باعث صورتحال بدستور نازک ہے، پاک چین اقتصادی راہدای پاکستان کے انفراسٹرکچر ضرویات کو پورا کرے گا، سی پیک منصوبہ ملکی معشیت کیلئے اہم ہے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت شروع اصلاحات کے مثبت نتائج نظر آرہے ہیں ۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ حکومتی قرضوں میں اضافہ اورمالیاتی خسارے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، برآمدات میں آضافے کے باعث مستحکم زرمبادلہ ذخائر بھی کم پڑ سکتے ہیں پاکستان کے مقامی بانڈز کی ریٹنگ بھی بی اے تھری پر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ سیاسی عدم استحکام اور جغرافیہ سیاست ریٹنگز اور معاشی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ریٹنگز ایجنسی کے مطابق مالی سال دوہزار سولہ سترہ کے اختتام پر معاشی شرح نمو 4اعشاریہ5 فیصد رہی جو کہ گزشتہ دو سال سے زیادہ ہے، آئندہ چند برسوں میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ جائے گی، سی پیک منصوبے سے پاکستان معیشت کو استحکام ملے گا، قرضوں میں اضافہ اور ٹیکس وصولی میں کمی مالیاتی مسائل کا باعث بن رہی ہے۔

مالی سال دوہزار سولہ سترہ میں مالیاتی خسارہ چار اعشاریہ چار فیصد رہا، زرمبادلہ ذخائر بڑھ رہے ہیں تاہم بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث نارک صورت حال کا سامنا ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں