The news is by your side.

Advertisement

ٹیکس ادا کرنے والی تمباکو کی صنعت پر مزید ٹیکسوں سے معیشت تباہ ہو جائے گی

کراچی: غیر قانونی تجارت معیشت کے لیے بربادی کا درجہ رکھتی ہے کیوں کہ یہ حکومت کو بڑے محصولات سے محروم کر دیتی ہے اور اسی کے ساتھ متعدد قانون پر عمل کرنے والی صنعتوں کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں جو فی الحقیقت اپنے ٹیکسوں اور دیگر واجبات کی ادائیگی کی صورت میں، قومی خزانے میں ایک بڑا حصہ ادا کر رہی ہوتی ہیں۔

پاکستان میں تمباکو کی صنعت غیرقانونی سگریٹوں کی تیاری اور فروخت کی وجہ سے پہلے ہی خسارے میں چل رہی ہے۔ حکومت کو بھی محصولات میں 45 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے اور اندیشہ ہے کہ سنہ 2020ء کے دوران قانونی طور پر تیار کردہ سگریٹوں کی فروخت میں مزید کمی کی وجہ سے، محصولات میں بھی مزید نقصان ہو گا۔ لہٰذا، ایف بی آر مسلسل سگریٹوں کی غیر قانونی تیاری، اسمگلنگ اور فروخت کے خلاف جد وجہد کر رہا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران، سابقہ حکومتوں نے بھی اس آفت سے چھٹکارا پانے کے لیے متعدد اقدامات کیے لیکن، بد قسمتی سے، پاکستانی تمباکو کی صنعت میں بدعنوانی جاری ہے۔ تاہم، جب سے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں حکومت بنی ہے، یہ ٹیکس چوری کے خلاف، اور بالخصوصی تمباکو کے شعبے میں،عدم برداشت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ایف بی آر نے بھی غیرقانونی تجارت کے خلاف مضبوط عزم کا مظاہر ہ کیاہے اور اس کے لیے مالی اقدامات کے ساتھ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر قائم سولوشن، مثلاً ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نافذ کیا ہے جوتمباکو کی صنعت سمیت، متعدد صنعتوں میں کنٹرول اور ریگولیٹری کمپلائنس کے لیے زیادہ مؤثر معلوم ہوتا ہے۔
اسی کے ساتھ، اسمگل شدہ اور جعلی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے ایف بی آر باقاعدگی سے چھاپے بھی مار رہا ہے اور ایسی اشیاء ضبط بھی کر رہا ہے۔

حکومت اگر چاہتی ہے کہ تمباکو کی صنعت سے ٹیکسوں کے ذریعے محاصل میں اضافہ ہوتو ایسی صورت میں وزارت برائے قومی صحت، ضوابط و تعاون (MNHRC) کو ایف بی آر کے تعاون سے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی مدد سے پاکستان میں بننے والی تقریباً 64 ملین غیرقانونی سگریٹوں کے استعمال پر نظر رکھی جا سکے جس سے’غیر قانونی‘ صنعت کی جانب سے قوانین/قواعد کی خلاف ورزی ظاہر ہوتی ہے۔

مقامی قوانین کے مطابق، سگریٹ کے ایک پیک کی از کم قیمت 62.76 روپے ہے جبکہ غیر قانونی برانڈز 20-25 روپے میں دستیاب ہیں۔اس وقت ملک میں غیر قانونی سگریٹ تیار کرنے والے سات ادارے ہیں جن کا اس غیر قانونی تجارت میں حصہ 80 فیصد ہے۔مزید برآں، غیر قانونی سگریٹ بنانے والے یہ ادارے اشتہار بازی میں نوجوانوں کو ہدف بناتیہیں، مالی فوائد اور لکی ڈراز وغیرہ کی پیش کش کرتے ہیں جو صحت سے متعلق دیگر قوانین کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں اور ان تمام سرگرمیوں پر پاکستان میں پابندی ہے۔

چنانچہ، قانون نافذ کرنے والی ٹیموں کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ بنانے والے ان اداروں کے خلاف کارروائی سے بلیک مارکیٹ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ تاہم،تمباکو کے قانونی اور جائز شعبے پر مزید بھاری ٹیکس عائد کرنے سے غیر قانونی شعبے کا مارکیٹ میں مزید اضافہ ہو گا کیوں کہ ٹیکس ادا شدہ پیک کی قیمت اور ٹیکس نہ ادا کرنے والے برانڈ کی قیمت میں فرق بہت زیادہ ہو گا۔

گزشتہ سال، اس سلسلے میں، حکومت نے متعدد قابل تعریف اقدامات کیے اور امید ہے کہ حکومت کو محاصل کی مد میں ہونے والے اقدامات کا اعادہ کرے گی اور اسی کے ساتھ ملک میں ریگولیٹری مقاصد کو پورا کرتے ہوئے عوامی صحت کا تحفظ بھی کرے گی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں