The news is by your side.

شدت پسندوں کا تعلیمی درس گاہ پر حملہ، سو سے زائد طالبات اغواء

ابوجا: نائجیریا کے شہر ڈاپچی میں شدت پسندوں نے تعلیمی درس گاہ پر حملہ کرتے ہوئے سو سے زائد طالبات کو اغوا کر لیا جن کی بازیابی کے لیے حکومت سرگرم ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں ’بوکو حرام‘ نامی شدت پسند تنظیم نے ملک کے شمال مشرقی صوبے میں واقع سائنس ٹیکنیکل کالج پر دھاوا بول دیا جس کے بعد 110 طالبات کو اغوا کرکے لے گئے جن کی تلاش جاری ہے۔

دہشت گردوں کی جانب سے حملہ اس وقت کیا گیا جب کالج میں درس و تدریس کا عمل معمول کے مطابق جاری تھا، اس دوران گورنمنٹ گرلز سائنس اینڈ ٹیکنیکل کالج کے دیگر طالبات اور اساتذہ نے قریبی جھاڑیوں میں چھپ کر اپنے آپ کو محفوظ رکھا۔

نائجیریا میں دہشتگردتنظیم بوکوحرام کاحملہ،86 افرادہلاک

دوسری جانب نائجیریا کے فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، اہلکاروں کی جانب سے کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جس کے لیے فوجی نفری اور طیاروں سے نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

مغوی طالبات کے والدین نے حکومت سے بچیوں کی بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں کالج انتظامیہ نے واقع سے متعلق آگاہ نہیں کیا، ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں فوری طالبات کی صحیح سلامت بازیابی یقینی بنائیں۔

نائجیریا فوج کی کارروائی، بوکوحرام کے 30جنگجو ہلاک،338 مغوی بازیاب

واضح رہے حکومت کی جانب سے پہلے واقعے کی تردید کی تھی تاہم جلد حقیقت سامنے آنے پر واقعے کو قومی سانحے سے تعبیر کیا اور اہل خانہ سے معافی بھی مانگی۔

خیال رہے کہ تقریبا چار سال قبل اسی دہشت گرد تنظیم نے چیبوک کے ایک سکول سے 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ‘برنگ بیک آور گرلز’ کی مہم نظر آئی تھی۔ ان میں سے ابھی بھی ایک سو سے زیادہ لڑکیوں کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں