اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت میں پولن الرجی والے 29 ہزار سے زائد درخت ہٹا دیے گئے، جس کے بعد مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پولن الرجی کے خاتمے کے لیے حکومت نے ایک تاریخی اور جامع مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت 29,115 پولن الرجی والے پیپر ملبرری کے درخت ہٹا دیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد ملک کی صدارت میں پولن الرجی کے خاتمے کا روڈ میپ تیار کیا گیا، جس کے تحت سی ڈی اے اور وزارتِ قومی صحت نے مشترکہ طور پر تین مرحلوں پر مشتمل سائنسی آپریشن مکمل کیا۔
اس اقدام کے دوران ایف نائن پارک، شکر پڑیاں اور دیگر بڑے سیکٹرز سے صرف الرجی پیدا کرنے والے پیپر ملبرری کے درخت ہٹائے گئے، جبکہ مقامی اور غیر الرجینک درخت محفوظ رکھے گئے۔
ہر ہٹائے گئے درخت کے بدلے تین نئے مقامی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اب تک متعلقہ علاقوں میں 40,000 سے زائد ماحول دوست درخت لگائے جا چکے ہیں، اور نجی شعبے اور او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے مزید 18,000 درخت لگانے کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔
شکر پڑیاں میں 81 ایکڑ پر بحالی کا کام جاری ہے اور منصوبہ اپریل 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
پولن الرجی کے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور دو سال میں پولن ویکسینیشن کیسز میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
سال 2023 کے مقابلے میں 2025 میں الرجی کے کیسز نصف سے بھی کم رہ گئے، جبکہ نومبر اور دسمبر 2025 میں پولن الرجی کے کیسز ریکارڈ حد تک کم رپورٹ ہوئے۔
یہ اقدام وفاقی دارالحکومت میں شہریوں کی صحت بہتر بنانے اور ماحول دوست ماحول فراہم کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔


