site
stats
عالمی خبریں

سعودی جیلوں میں 40 ممالک کے 5 ہزار شہری قید، پاکستانی بھی شامل

ریاض: سعودی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ چالیس ملکوں کے 5085 شہری دہشت گردی کی سرگرمیوں یا سیکیورٹی سے متعلق کیسوں میں ملوّث پائے گئے، جن میں 68 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران 5085 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو دنیا کے 40 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جیلوں میں قید یا زیرحراست افراد میں سے بعض کو عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق زیر حراست یا قید افراد میں سے کچھ کے خلاف عدالتی احکامات کی روشنی میں تحقیقات کا عمل جاری ہے جبکہ انٹیلی جنس ادارے بھی غیر ملکی قیدیوں کے خلاف تفتیش کررہی ہے۔

وزاتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں سزا پانے والے 4254 افراد انٹیلی جنس جیلوں میں قید ہیں تاہم یہ تعداد ماضی کے اعداد و شمار کےحساب سے کئی زیادہ ہے۔

سعودی حکومت کی جانب سے جاری تفصیل میں سب سے زیادہ قیدیوں کی تعداد 282 یمنی باشندوں کی ہے جبکہ شامیوں کی تعداد 218 کے قریب ہے، امریکا سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد جبکہ فرانس، بیلجیئم اور کینیڈا کا ایک ایک شہری زیر حراست ہے۔

عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے مشتبہ زیر حراست افراد میں 57 مصری ،29 سودانی ، 21 فلسطینی ،سات صومالی ،پانچ عراقی ، تین لبنانی ، دو مراکشی ،19 اردنی ، دو موریتانی ،دو اماراتی ،10 بحرینی ،دو قطری جبکہ لیبیا اور الجزائر کا ایک ایک شہری ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق زیر حراست یا قید مشتبہ غیرملکیوں میں سے ایک چینی ،تین فلپائنی ،19 بھارتی ،68 پاکستانی، 6 ایرانی ، سات افغان ، چار ترک ، چار بنگلہ دیشی ہیں اور ایک کا تعلق کرغسستان سے جبکہ افریقی ملک چاڈ سے تعلق رکھنے والے 17 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں۔

علاوہ ازیں ایتھوپیا کے تین، نائیجیریا کے چار ، مالی کے دو اور انگولا ،بورکینا فاسو اور جنوبی افریقہ کا ایک ایک شہری سعودی عرب میں مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیر حراست یا قید ہے۔

سعودی جیلوں میں قید  تمام زیر حراست افراد اپنے خاندانوں اور رشتے داروں سے سمعی اور بصری رابطے کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top