The news is by your side.

مراکشی فٹ بالر نے زندگی کی ‘تلخ یادوں’ سے پردہ اٹھادیا

قطر میں جاری فیفا ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میچ میں مراکش نے اسپین کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی تو دنیا حیران رہ گئی۔

منگل کی رات قطر کے ایجوکیشن اسٹی سٹیڈیم میں میچ کے 90 منٹ فیصلہ کن ثابت نہ ہوئے تو دونوں ٹیموں کو 30 منٹ کا اضافی وقت دیا گیا۔

اضافی وقت میں بھی کوئی ٹیم گول نہ کر سکی تو فیصلہ پینلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا جہاں مراکش کی ٹیم نے چار پینلٹی ککس میں سے تین پر گول کئے جبکہ ہسپانوی ٹیم پہلی تینوں پینلٹی ککس ضائع کرگئی۔Imageتاریخی فتح کے بعد مراکش کے اسٹار کھلاڑی اشرف حکیمی اپنی ٹیم کی ناقابل یقین جیت اسٹیڈیم میں بیٹھی اپنی والدہ کے ساتھ مناتے ہوئے نظر آئے اور سوشل میڈیا پر یہ مناظر سینکڑوں ٹائم لائنز کی زینت بنی۔

یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو فیفا ورلڈ کپ دیکھنے قطر پہنچ گئے

اس سے قبل جب ورلڈ کپ میں مراکش نے بیلجیئم کو شکست دی تھی اس کے بعد بھی اشرف حکیمی اپنی والدہ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔

گذشتہ رات سپین کے خلاف فتح کے بعد بھی مراکشی کھلاڑی رقص کرتے ہوئے مجمع میں بیٹھی اپنی والدہ کے پاس پہنچے اور انہیں سینے سے لگا کر ان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔Imageاشرف حکیمی کی پیدائش سپین کے شہر میڈرڈ میں ہوئی تھی لیکن انہوں نے فٹ بال کھیلنے کے لیے اپنے والدین کے آبائی ملک مراکش کا انتخاب کیا تھا۔

مراکشی کھلاڑی اپنی والدہ سے محبت کی وجہ ماضی میں بھی کئی بار بتا چکے، اشرف حکیمی کی والدہ سعیدہ مو مراکش میں اپنے بیٹے کو کامیاب بنانے والی ماں کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔

اشرف حکیمی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ہمارا تعلق ایک غریب مگر سفید پوش گھرانے سے ہے جنہیں اپنے کمانے اور کھانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی تھی۔Imageمراکش فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی نے انکشاف کیا تھا کہ ’میری والدہ لوگوں کے گھروں کی صفائی کیا کرتی تھیں اور میرے والد سڑکوں پر مختلف اشیاء فروخت کیا کرتے تھے۔‘

اشرف حکیمی اپنے فٹ بال کیریئر کو بھی اپنے والدین کی دین سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آج میں ہر روز ان کے لیے کھیلتا ہوں کیونکہ انہوں نے میرے لیے قربانیاں دیں اور انہوں نے میرے بھائیوں کو بہت سی چیزوں سے محروم اس لیے رکھا تاکہ میں کامیاب ہو سکوں۔

اشرف حکیمی اس وقت فرانسیسی فٹ بال کلب پیرس سینٹ جرمن (پی ایس جی) کے مستقل کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ اس سے قبل مشہور کلب ریال میڈرڈ اور اطالوی کلب انٹر میلان کی طرف سے بھی فٹ بال کھیلتے رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں