site
stats
خواتین

خواتین کو ہراساں ہونے سے بچانے کے لیے مراکش میں گلابی بسیں

پنک بس میں 12 سال سے کم عمر بچوں کو خواتین کے ساتھ سفر کی اجازت ہوگی، حکام

رباط : مراکش کی حکومت نے دورانِ سفر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے گلابی رنگ کی بسیں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں افسوسناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی روک تھام کے لیے مختلف تنظیمیوں اور معروف شخصیات نے اپنی آواز بھی بلند کی اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

مراکش حکومت نے ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے گلابی رنگ کی بسوں کو خواتین کےلیے مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دورانِ سفر خواتین بالکل محفوظ طریقے سے سفر کرسکیں۔

مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ پر 17 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات

وزیرٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ ’گلابی بسوں یا اس سے متعلق دیگر چیزوں کا ترقی یافتہ ممالک میں کامیاب تجربہ کیا جاچکا ہے، جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں بھی رش کے اوقات میں خواتین کو سفر کے لیے مخصوص سیٹیں (بوگیاں) دی جاتی ہیں تاکہ صنفِ نازک کو کوئی ہراساں نہ کرسکے اور وہ ذہنی کوفت و اذیت سے محفوظ رہے‘۔

مراکش کے میئر محمد صدیقی خواتین کے لیے بسوں کو مختص کرنے کا اعلان پہلے ہی کرچکے ہیں، دو ہفتے قبل انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’خواتین کے خلاف تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے اس طرح کے اقدامات ضروری ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ہراساں کرنے والے مردوں کو سبق سکھانے والی طالبہ

حکومتی اعلان کے  بعد مراکش میں دائیں بازو کی جماعتوں نے اس فیصلے کو صنفی امتیاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس اقدام سے معاشرے میں مرد اور عورت کو علیحدہ کرنے کی راہ ہموار ہوگی جس کے مستقبل میں خطرناک نتائج ثابت ہوسکتے ہیں‘۔

دوسری جانب قدامت پسند اور مذہبی جماعتوں نے حکومت اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس خواتین کے تحفظ کی علامت قرار دیا ہے۔

منصوبے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گلابی بسوں میں خواتین کے علاوہ کسی کو سفر کی اجازت نہیں ہوگی تاہم 12 سال سے کم عمر بچے اپنی والدہ، بہن یا کسی محرم کے ساتھ سفر کرنے کے مجاز ہوں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top