رباط(9 فروری 2026): مراکش کے مختلف صوبوں میں ایک ہفتے سے جاری شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق طوفانی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے باعث اب تک 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سیلاب کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طنجہ کا بین الاقوامی ابنِ بطوطہ ائیر پورٹ مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا ہے۔ ائیر پورٹ کے رن وے پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے جہازوں کے پہیے ڈوب گئے ہیں اور فضائی آپریشنز معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ زمینی راستوں پر بھی سڑکیں پانی میں ڈوب جانے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سیلابی صورتحال کی وجہ سے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی اور انخلا پر مجبور ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری بارشوں کا یہ سلسلہ اگلے دو روز تک مزید جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث مزید نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


