The news is by your side.

Advertisement

یورپی سیاح خواتین کے قتل میں ملوث ہسپانوی شہری مراکش سے گرفتار

رباط : مراکش میں دو یورپی خواتین سیاح کے قتل میں ملوث سوئس ہسپانوی شہری گرفتار کرلیا گیا، جس کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش سے بتایا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی شہری 24 سالہ لوئسیا جیس پرسن اور ناروے کی شہری 28 مارن یولینڈ تین روز قبل مراکش کے مشہور سیاحتی مقام اور شمالی افریقہ کی بلند ترین چوٹی توبقال پر مردہ حالت میں ملی تھیں جنہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس نے بہیمانہ قتل میں ملوث شخص کا نام ظاہر نہیں کیا ہے، مذکورہ شخص مراکش شہر سے گرفتار کیا گیا ہے جو لوگوں کو دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کرنے کا کام کرتا تھا۔

مراکشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہسپانوی اور سوئیٹزرلینڈ کی شہریت کا رکھنے والا شخص شدت پسندانہ نظرئیے کا حامل تھا۔

مراکشی پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں سے چار ملزم برائے راست قتل میں ملوث تھے جن کا تعلق شدت پسند تنظیم داعش سے ہے۔

خیال رہے کہ حملہ آوروں نے قتل سے ایک ہفتہ قبل ویڈیو ریکارڈ کی تھی جس میں انہوں نے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی سے وفا داری کا وعدہ کیا تھا تاہم چاروں ملزمان نے کبھی متنازعہ علاقوں (شام، عراق، لیبیا) میں برائے راست داعشی سربراہ سے ملاقات نہیں کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مراکشی حکام سیاحوں کے تحفظ کےلیے مزید بہتر اقدامات کررہے ہیں لیکن اس سے قبل انہیں دہشت گرد تنظٰیم کی جڑیں کاٹنا ہوگی۔

برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ مراکش سے تعلق رکھنے 1600 افراد نے سنہ 2015 میں عراق و شام میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والی شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کی تھی جو اب واپس اپنے گھر (مراکش) آچکے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں بیلجیئم اور فرانس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں بھی مراکشی شہری ملوث تھے۔

مزید پڑھیں : یورپی خواتین سیاحوں کے قتل میں داعش ملوث ہے، مراکشی حکام

یاد رہے کہ مراکشی حکام نے اس سے قبل چار افراد کو گرفتار کیا تھا اور ان ملزمان کا تعلق دیشت گرد تنظیم داعش سے بتایا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں