The news is by your side.

Advertisement

پیوٹن، یوکرینی صدر میں براہ راست بات چیت کا امکان مسترد

ماسکو: روس نے صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مابین براہ راست بات چیت کا امکان مسترد کر دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ماسکو نے فی الحال روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ان کے یوکرینی ہم منصب ولودیمیر زیلنسکی کے درمیان بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ خیالات کے تبادلے کے لیے رہنماؤں کے درمیان کوئی بھی فوری ملاقات نتیجہ خیز نہیں ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ بات چیت اس وقت ہونی چاہیے جب یوکرین اور روس اہم معاملات پر اتفاق رائے کر لیں، واضح رہے کہ زیلنسکی نے جنگ کو ختم کرنے کے لیے متعدد بار پیوٹن سے آمنے سامنے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر کریملن نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے حکام کے درمیان منگل کو ترکی میں مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں، پیوٹن اور ان کے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان نے اتوار کو ایک ٹیلی فون کال میں استنبول میں بات چیت کی میزبانی کرنے پر اتفاق کیا، جس سے انقرہ کو امید ہے کہ جنگ بندی ہو جائے گی۔

دوسری طرف یوکرین کے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین کو دو الگ الگ علاقوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ملٹری انٹیلی جنس چیف نے کہا روس یوکرین کے لیے کوریا طرز کی تقسیم پر غور کر رہا ہے، اور دارالحکومت کیف پر قبضہ کرنے اور اس کی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکامی کے بعد اب چاہتا ہے کہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں