The news is by your side.

Advertisement

امریکا: گھر میں آگ لگا کر بچوں کو مارنے والی ماں رہا!

امریکا میں ایک خاتون کو تہرے قتل کے الزام میں 32 سال بعد جیل سے رہا کردیا گیا۔ خاتون پر الزام تھا کہ انہوں نے دانستہ طور پر گھر کو آگ لگا کر بچوں کو مار ڈالا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ریاست کیلی فورنیا کی رہائشی 59 سالہ جو این پارکس کو سنہ 1989 میں گرفتار کیا گیا تھا، ان کے گھر میں آگ لگی تھی جس میں ان کے تینوں بچے ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس کے مطابق لونگ روم میں رکھے گئے وی سی آر کی ایک تار خراب تھی جہاں سے آگ شروع ہوئی، بعد ازاں آگ بچوں کے کمرے تک پھیل گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد ملے جس سے ماں کی غفلت اور لاپرواہی ظاہر ہوتی تھی، بچوں کے کمرے میں بھاری فرنیچر رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے باہر نکلنے کا راستہ بھی بلاک تھا۔

ایک پڑوسی نے پولیس کو بیان دیا کہ پارکس اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھتی تھی، اس نے ایک بار ایک بچے کو فرش سے کتے کا کھانا اٹھا کر کھاتے دیکھا تھا۔

ادھر ماں نے اپنے بیان میں کہا کہ آتشزگی کی رات وہ بچوں کے چیخنے کی آوازوں سے نیند سے اٹھی، آگ اتنی شدید تھی کہ وہ بچوں کے کمرے تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ وہ باہر نکل کر پڑوسیوں تک گئی لیکن پڑوسی بھی بچوں تک نہیں پہنچ سکے۔

سنہ 2011 میں ججز کے ایک پینل نے واقعے کو حادثہ قرار دیا، تب تک پارکس 2 دہائیاں جیل میں گزار چکی تھی۔

دی انوسینس نامی ایک ادارے کی کوششوں سے، جو بے گناہ قیدیوں کے لیے کام کرتے ہیں، پارکس کا کیس دوبارہ چلا اور بالآخر 32 سال بعد اسے ضمانت پر جیل سے رہا کردیا گیا۔ پارکس کا کیس عدالت میں جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں