بیٹی کو زندہ جلانے والی ماں کو سزائے موت -
The news is by your side.

Advertisement

بیٹی کو زندہ جلانے والی ماں کو سزائے موت

لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے بیٹی کو زندہ جلانے والی ماں کو سزائے موت سنادی۔ جرم میں شریک بھائی کو بھی عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد الیاس نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعدفیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے زندہ جلائی جانے والی لڑکی کی والدہ پروین بی بی کو پھانسی کی سزا سنا دی جبکہ شریک جرم بیٹے انیس کو عمر قید کی سزا سنا دی۔

مقدمہ میں نامزد بہنوئی ظفر اقبال کو بری کرنے کا حکم دے ديا گیا۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل زندہ جلائی جانے والی نوجوان لڑکی زینت نے احسن نامی نوجوان سے پسند کی شادی کی تھی۔ والدین نے صلح کے بعد اسے گھر واپس بلوایا جس کے بعد ماں اور بھائی نے اسے تیل چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔

لڑکی کے خاوند احسن خان کی مدعیت میں لڑکی کی ماں پروین بی بی، بھائی انیس احمد اور بہنوئی ظفر اقبال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں لڑکی کا بہنوئی ظفر تمام واقعہ میں بے گناہ ثابت ہوا۔

دوران تفتیش لڑکی کی ماں پروین بی بی نے اپنا گناہ بھی تسلیم کر لیا تھا۔ ماں کا کہنا تھا کہ مقتولہ زینت نے گھر میں اس کے ساتھ ہنگامہ آرائی کے بعد خود پر تیل ڈال لیا اور اسے بار بار آگ لگانے کے لیے اکساتی رہی جس پر غصے میں آ کر اس نے ماچس کی تیلی پھینک دی جس سے وہ بری طرح جھلس گئی اور بعد ازاں جاں بحق ہوگئی۔

دوران تفتیش لڑکی کی ماں پروین بی بی نے اپنا گناہ بھی تسلیم کر لیا تھا۔ ماں کا کہنا تھا کہ مقتولہ زینت نے گھر میں اس کے ساتھ ہنگامہ آرائی کے بعد خود پر تیل ڈال لیا اور اسے بار بار آگ لگانے کے لیے اکساتی رہی جس پر غصے میں آ کر اس نے ماچس کی تیلی پھینک دی جس سے وہ بری طرح جھلس گئی اور بعد ازاں جاں بحق ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں