The news is by your side.

Advertisement

جعلی پولیس مقابلہ: ہلاک ہونے والے نوجوان کی ماں نے چیف جسٹس کی گاڑی روک لی

لاہور: سیالکورٹ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے بیٹے کے لیے ماں نے عدالت کے باہر احتجاج کیا اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی گاڑی روک لی، چیف جسٹس نے خاتون کی فریاد سن کر اسے کل عدالت طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار لاہور رجسٹری سے گلاب دیوی ہسپتال کیلئے نکلے تو ایک خاتون نے گاڑی روک لی اور بیٹے کے لیے انصاف کی فراہمی کی فریاد کرنے لگی، جس پر چیف جسٹس گاڑی سے اتر کر خاتون کی بات سننے کے لئے رک گئے،جن کے ہمرا جسٹس اعجاز الاحسن بھی موجود تھے۔

سیالکوٹ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی‘ دہشت گرد گرفتار

خاتون نے چیف جسٹس کو بتایا کہ وہ صبح سے عدالت کے باہر کھڑی ہے، آپ سے ملنے نہیں دیا جاتا، اسے صرف آپ سے انصاف کی توقع ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے۔

خاتون اپنے بیٹے کے سیالکوٹ پولیس کے ہاتھوں قتل پر فریاد کر رہی تھی اس موقع پر خاتون کا کہنا تھا کہ 2008 سے وہ اپنے بیٹے کے لیے انصاف کی منتظر ہے، جس پر چیف جسٹس نے کل صبح گیارہ بجے چھٹی کے روز خاتون کو سپریم کورٹ بلا لیا ہے۔

سیالکوٹ : باپ کا 3سالہ بیٹے پر بہیمانہ تشدد

خیال رہے کہ فریاد کرنے والی صغری بی بی اور اس کے بیٹے محسن کو سیالکوٹ سے ذوالفقار نامی ایس ایچ او نے گھر سے اٹھایا تھا اور ان کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا تھا، بعد ازاں خاتون کو چھوڑ کر بیٹے کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا گیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں