انسانیت کی روشن شمع - مدر ٹریسا -
The news is by your side.

Advertisement

انسانیت کی روشن شمع – مدر ٹریسا

آج ان کا 108 واں یومِ پیدائش منایا جارہا ہے

اپنی تمام زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردینے والی مدر ٹریسا کا آج 108 واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے، آپ 5 ستمبر 1910 کو سلطنتِ عثمانیہ میں پیدا ہوئیں تھیں۔

مدر ٹریسا کا پیدائشی نام انجیزے گونزے تھا ، وہ ایک مسیحی راہبہ تھیں اور سلطنتِ عثمانیہ کےصوبے مقدونیہ کے شہر سکوپیہ میں پیدا ہوئیں تھیں ،وہ کلکتہ میں ساٹھ برس تک غریبوں و نادار بیماروں کی دیکھ بھال کرتی رہیں، تاہم ان پر البانوی اور مقدونیائی باشندوں کا یکساں دعویٰ ہے کیونکہ اس وقت مقدونیہ کے نام سے کسی ملک کا وجود نہیں تھا بلکہ یہ شہر سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔

ان کا تعلق ایک مذہبی خاندان سے تھا ،انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم یوگسلاویہ کے ایک مذہبی سکول سے حاصل کی ، دس سال کے عمر میں والد کے انتقال سے ان کے ایمان اور عقیدت پر گہرا اثر پڑا ۔1928ءمیں مدر ٹریسا کو مزید دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئرلینڈ کے شہر ڈبلن بھیج دیا گیا اور 1929ء میں انہیں خدمتِ خلق کے فرائض سرانجام دینے کے غرض بنگال میں واقع لوریٹو نامی خانقاہ بھیج دیا گیا۔

چرچ نے مدرٹریسا کوولی کا درجہ دے دیا

سنہ 1931ء میں اپنا نام تبدیل کرتے ہوئے وہ راہبہ بن گئیں ،اب وہ سسٹر ٹریسا کہلانے لگیں تھیں ، اور انسانیت کی خدمت کا مشن جاری تھا۔ انہوں نے اپنے ادارے’ مشنریز آف چیریٹی ‘ کی بنیاد سنہ 1950 میں محض بارہ راہباؤں کے ہمراہ رکھی تھی جن کی تعداد بعد میں بڑھ کر ساڑھے چار سو تک اور دائرہ کار ایک سو تینتیس ممالک تک جاپہنچا ۔ان کے فلاحی کاموں میں مریضوں کا علاج ، یتیم اور بیواؤں کی مدد شامل ہے ۔

مدرٹریسا پیسوں کی پرواہ نہیں کرتی تھیں اور ان کے حوالے سے مشہور تھا کہ وہ مالی امداد اور عطیات قبول نہیں کرتیں بلکہ مدد میں ذاتی شرکت کو ترجیح دیا کرتیں تھیں ۔

مدر ٹریسا کو غریبوں اور ناداروں کے لئے کئی دہائیوں پر مشتمل ان کی خدمات کے صلہ میں 1989ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا،جس کی انعامی رقم مدرٹریسا نے فلاحی کاموں کیلئےصرف کردی ۔ اس کے علاوہ 2016ء میں پاپائے روم فرانسس نے مدر ٹریسا کو ’ بابرکت‘ شخصیت قرار دیا تھا۔ یہ سعادت ’سینٹ‘ قرار دیئے جانے یا عیسائیت کے تحت ’ولایت‘ (ولی بن جانے) کا مرتبہ حاصل کرنے کے مراحل میں سے آخری مرحلہ ہے۔

سنہ 1985ء میں جب مدر ٹریسا روم کے دورے پر تھیں وہاں انھیں دل کا دورہ پڑا ، 1989ء میں ا ن کو ایک اور دل کا دورہ پڑا جو پچھلے دورے سے زیادہ خطرناک تھا ، اس بار ان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے ان کا آپریشن کیا گیا ، 1991ء میں جب وہ میکسیکو میں تھیں تو وہاں نمونیا کا شکار ہوگئیں جس نے ایک بار پھر ان کے قلب پر منفی اشرات مرتب کئے ، سنہ 1996ءمیں ایک بار پھر ان کے دل کا آپریشن ہو ،تاہم 5 ستمبر 1997ء میں طویل علالت کے بعد مدر ٹریسا انتقال کرگئیں ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں