کراچی : زمین نے 30 سال بعد قتل کا ایسا لرزہ خیز راز اگل دیا جس کے بعد پیار سے محروم اولاد ماں کی ہڈیاں دیکھ کر خود پر قابو نہ رکھ سکی۔
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن گلشنِ بہار میں ایک ایسا خوفناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے تین دہائیوں پرانا راز بے نقاب کرکے لوگوں پر لرزہ طاری کردیا۔
آج سے تقریباً 30 سال قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی خاتون کی مدفون لاش گھر کے اندر سے ہی مل گئی، ٹینک کی کھدائی کے دوران خاتون کی ہڈیاں ملنے پر کہرام برپا ہوگیا۔
اورنگی ٹاؤن میں گھر کی تعمیر کے لئے چند ماہ قبل ہونے والی کھدائی کے دوران 30سال قبل قتل کرکے دفن کی گئی خاتون کی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔
1995میں لاپتا ہونے والی ممتاز بیگم کے بارے میں ان کے بچوں کو برسوں سے یہی بتایا جاتا رہا کہ وہ کسی کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں، مگر 30 سال بعد حقیقت اس وقت سامنے آئی جب اسی گھر کی کھدائی کے دوران انسانی ہڈیاں برآمد ہوئیں۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ارکانیہ کالونی گلی نمبر 14 میں واقع ایک مکان میں پانی کے ٹینک کو گہرا کرنے کے لیے کھدائی کی جا رہی تھی۔
یہ گھر پانچ سال قبل یوسف نامی شخص نے فرید سے خریدا تھا جس کی ازسر نو تعمیرات کے سلسلے میں ٹینک کی کھدائی کی جارہی تھی۔
مزدوروں نے جیسے ہی چند فٹ نیچے کھدائی کی، انسانی ہڈیاں نکلنا شروع ہوگئیں، ساتھ ہی ایک گلابی رنگ کا دوپٹہ، چپل اور کپڑوں کے ٹکڑے بھی ملے۔
یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جب یہ اطلاع ممتاز بیگم کے تین بچوں شاہجہان، رمضان اور عاصمہ تک پہنچی تو وہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے۔
ہڈیوں کے ساتھ ملنے والی اشیاء دیکھ کر ان کے ہوش اڑگئے، بچوں نے دوپٹہ، چپل اور کپڑوں کو فوراً اپنی والدہ کی نشانی کے طور پر پہچان لیا۔
عاصمہ جو اس وقت صرف چار برس کی تھیں، آج بھی وہ لمحہ نہیں بھولی جب مدرسے سے واپس آکر انہوں نے گھر میں اپنی ماں کو غائب پایا تھا۔
سوتیلے والد فرید عالم نے اس وقت بچوں کو بتایا تھا کہ ان کی ماں کسی اور کے ساتھ چلی گئی ہے۔ یہی بات برسوں تک سچ مان لی گئی مگر اب کھلنے والا راز ایک ہولناک قتل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
پولیس نے برآمد ہڈیوں کو تحویل میں لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اسپتال منتقل کیا ہے تاکہ تصدیق ہوسکے کہ یہ باقیات واقعی ممتاز بیگم کی ہیں یا نہیں۔ عاصمہ کی مدعیت میں سوتیلے والد فرید عالم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
بچوں کا کہنا ہے کہ فرید عالم اور ان کی والدہ کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے تھے، اور لاپتا ہونے سے چند روز قبل بھی شدید تشدد کیا گیا تھا، ان کا الزام ہے کہ فرید نے زیورات اور جائیداد ہتھیانے کے لیے ان کی ماں کو قتل کیا۔
دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ فرید عالم گرفتاری سے پہلے ہی اپنی ضمانت کروا چکا ہے جبکہ تینوں بہن بھائی آج بھی ایک ہی سوال دہرا رہے ہیں کہ اگر ہماری ماں بے قصور تھی، تو اسے 30 سال تک مٹی میں کیوں دفن رکھا گیا؟ ہمیں انصاف چاہیے۔


