وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں میدان عمل میں نکل آئیں تو پنجاب کو کوئی نہیں ہرا سکتا، پنجاب سے بیماریاں بھاگ جائیں گی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ پنجاب ری ایکشن نہیں بلکہ پروایکٹو گورننس پر یقین رکھتا ہے، مائیں، بہنیں، بیٹیاں میدان عمل میں نکل آئیں تو پنجاب کو کوئی نہیں ہرا سکتا، 55 ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز میدان عمل میں نکلیں گی تو پنجاب سے بیماریاں بھاگ جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اب انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود چل کر گھروں تک جائے گی، جب بیماری ہوجائے تو علاج کی تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے، ہم پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پراجیکٹ لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں میدان عمل میں نکل آئیں تو پنجاب کو کوئی نہیں ہرا سکتا، مائیں، بہنیں، بیٹیاں پنجاب کی تقدیر بدل دیں گی۔
پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو پنجاب کا لینڈ اسکیپ بدل سکتی ہے، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر ز پراجیکٹ کی لانچنگ تقریب میں ہر بچی سے ملنے کو دل چاہ رہا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی بیٹی، پنجاب کی بہن اورپنجاب کی ماں ہمت اورحوصلے میں کسی سے کم نہیں، صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر، سیکرٹری ہیلتھ اور ان کی پوری ٹیم کو انتھک محنت کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کئی ماہ کی ٹریننگ کے بعد تکلیف میں مبتلا انسانیت میں شفا باٹنے کیلئے تیار ہیں، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز میری آنکھیں، کان اور میرا فخر اور میرا مان ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج ہم ہر شعبے میں خود کفیل ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کی خواتین میدان عمل میں اپنا منفرد مقام پیدا کریں گی، خواتین پنجاب کی ترقی کے لئے بہترین کردار ادا کر سکتی ہیں۔
کلینک آن ویل اور فیلڈ اسپتال سے تین کروڑ لوگوں کا علاج معالجہ کیا گیا، مریم نواز شریف کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز بلڈ شوگر سمیت تشخیصی ٹیسٹ اورانجکشن وغیرہ بھی لگا سکیں گی، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کا یونیفارم ڈیزائن کرنے میں خود دلچسپی لی ٹول کٹ کی منظوری بھی خود دی۔
انھوں نے بتایا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام میں 25ہزار لوگوں کو جاب ملی، 50ہزار تنخوا دے رہے ہیں، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کام کر کے دکھائیں تو تنخواہ بڑھائیں گے۔
مجھے احساس ہے یہ بہنیں، بیٹیاں، گلی گلی جا کر محنت کرے گی تو معاوضہ بھی اچھا دینا ہوگا، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پراجیکٹ کے ذریعے ہر گھر کا ہیلتھ پروفائل تیار ہوگا، بیماریوں کا اندازہ ہوگا،ڈیجیٹل ٹیپ میں پورا ریکارڈ رکھا جائے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ کوئی سوچ سکتا تھا کہ جہلم میں بھی کیتھ لیب بنے گی ا ورامراض دل کا علاج ہوگا، جھنگ میں بھی کیتھ لیب جلد شروع کرنے جا رہے ہیں، کوشش ہے کہ پنجاب کے عوام کو درکار ہر سہولت مہیا کرسکیں، کیمونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو کہنا چاہتی ہوں کہ یہ نوکری نہیں مشن ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


