موٹروے پولیس کی آئل ٹینکرڈرائیورزکو سیفٹی قوانین کی یاد دہانی -
The news is by your side.

Advertisement

موٹروے پولیس کی آئل ٹینکرڈرائیورزکو سیفٹی قوانین کی یاد دہانی

خیر پور: سانحہ بہاولپور میں 200 سے زائد افراد کے جل کر خاکستر ہونے کے بعد موٹر وے پولیس نے ہائی وے پر آئل ٹینکر ڈرائیوروں کو بنیادی حفاظتی اقدامات کی یاد دہانی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ میں خیر پور بائی پاس کے نزدیک موٹر وے پولیس نے آئل ٹینکروں کورو ک کر ان کے سیفٹی اقدامات کی چیکنگ کی‘ اور ڈرائیوروں کو قواعد و ضوابط کی یاددہانی کرائی ۔

اس مشق کے دوران ڈرائیوروں کو بتایا گیا کہ سیفٹی بیلٹ ان کی حفاظت کے لیے کس قدر ضروری ہے‘ ٹینکر کے ساتھ لازمی موجود آگ بجھانے والا آلہ کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ اور کمزور ٹائروں کی کیا پہچان ہے؟۔

ڈیوٹی پر موجود افر سب انسپکٹر عابد علی بھٹی نے اے آروائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موٹر وے پولیس کے لیے مسافروں کی حفاظت سب سے اہم ہے اور وہ اس کے لیے آئے روز اس قسم کے تربیتی اقدامات کرتے رہتے ہیں جن میں مختلف اقسام کی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ان کی ضرورت کے مطابق آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قانون کے مطابق آئل ٹینکر میں دو لائسنس یافتہ ڈرائیوروں کی موجودگی لازمی ہے اور اگر کسی آئل ٹینکر میں دو ڈرائیورز نہ ہوں تو اسے اسی مقام پر روک لیا جاتا ہے اور آگے نہیں جانے دیا جاتا ہے۔


 آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے 206 افراد جاں بحق


یاد رہے کہ بہاولپور سانحہ احمد پور شرقیہ کے مزید 2زخمی دوران علاج دم توڑ گئے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 206 ہو گئی، جبکہ 69زخمی اب بھی زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

سانحہ احمد پور شرقیہ پر موٹر وے پولیس کی انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی، غفلت برتنے پر ڈی ایس پی سمیت پانچ پولیس افسران اور چھ موٹروے پولیس اہلکار معطل کر دیئے گئے تھے۔

واضح رہے کہ 29 رمضان کو احمد پورشرقیہ کے قریب ایک افسوسناک واقعہ میں تیز رفتار آئل ٹینکر اچانک بے قابو ہوکر الٹ گیا تھا، ٹینکر سے آئل بہنے کی خبر پر لوگوں کی بڑی تعداد تیل جمع کرنے کے لیے وہاں پہنچی، درجنوں افراد پیڑول اکھٹا کر رہے تھے کہ آئل ٹینکر اچانک دھماکے سے پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں