The news is by your side.

Advertisement

وہ مشہورِ زمانہ مہم جس میں ایک غریب نیپالی نوجوان نے سَر ایڈمنڈ ہلاری کا ساتھ بھرپور دیا

1953ء میں کوہ پیما ایڈمنڈ ہلاری (Sir Edmund Hillary) اور ان کے نیپالی مددگار تینزنگ نورگے (Tenzing Norgay) نے ایورسٹ کی چوٹی سَر کی تھی، اور بعد میں برطانوی کوہ پیما ایڈمنڈ ہلاری نے اس خطرناک مہم کا احوال رقم کیا تھا جس کے چند پاروں کا ترجمہ مشہور ہفت روزہ ‘آئینہ’ (نئی دہلی) میں شایع ہوا تھا۔ ملاحظہ کیجیے۔

27 مئی کو صبح میں جلدی ہی اٹھ بیٹھا، سخت سردی کے باعث تمام رات مشکل سے ہی نیند آئی تھی، اور میری حالت بہت ہی خستہ ہو رہی تھی۔

میرے ساتھی لو، جارج اور تینزنگ مخروطی خیمہ میں پڑے ہوئے کروٹیں بدل رہے تھے تاکہ سخت سردی کے احساس میں کچھ کمی ہو سکے۔ ہوا بہت تیز تھی اور پوری طاقت سے چل رہی تھی۔ ہوا کی زور دار آواز کے باعث تمام رات گہری نیند سونا ممکن نہیں ہوسکا تھا۔ بستر میں سے ہاتھ نکالنے کو دل تو نہیں چاہتا تھا، لیکن بادلِ ناخواستہ ہاتھ نکالا اور گھڑی دیکھی صبح کے چار بجے تھے۔ دیا سلائی جلائی اور اس کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی میں تھرما میٹر دیکھا۔ درجۂ حرارت 35 ڈگری تھا، یعنی نقطۂ انجماد سے 25 ڈگری کم، ہمارا کیمپ کوہِ ایورسٹ کے جنوبی درّہ میں تھا۔

ہمیں امید تھی کہ ہم اس دن جنوب مشرقی پہاڑی بلندی پر اپنا کیمپ قائم کر سکیں گے، لیکن سخت ہوا کے باعث اس مقام سے روانہ ہونا ہی ناممکن تھا، لیکن ہمیں تیار رہنا تھا تاکہ جوں ہی ہوا کا زور ختم ہو ہم اپنے سفر پر روانہ ہو سکیں۔ میں نے تینزنگ کو بلایا اور اس سے کھانے پینے کے متعلق چند باتیں کہیں، تینزنگ کی عجیب عادت یہ ہے کہ اس کو کبھی کوئی شکایت کرتے ہوئے نہیں سنا گیا، تینزنگ سے باتیں کرنے کے بعد پھر میں اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ جلد ہی اسٹوو جلنے کی آواز آئی اور خیمہ کی ہوا میں گرمی پیدا ہوگئی۔ ہم اٹھ بیٹھے۔ ہمارے اندر تازگی پیدا ہوگئی اور ہم بسکٹ کھانے اور گرم پانی پینے لگے جس میں شکر اور لیموں ڈالا گیا تھا۔ گریگوری اور میں اپنے دن کے پروگرام کے متعلق گفتگو کرنے لگے، لیکن ہم پر مایوسی کی ایک کیفیت چھائی ہوئی تھی۔

9 بج چکے تھے، لیکن ہوا کا زور و شور بدستور تھا۔ میں اپنے گرم کپڑے پہنے ہوئے خیمہ سے باہر نکلا اور اس چھوٹے سے خیمہ کی طرف چلا تھا جس میں جان ہنٹ چارلس ایون اور ٹام بورڈیلن تھے۔ ہنٹ نے اس رائے سے اتفاق کیا کہ ایسے خراب موسم میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ آنگ ٹیمبا بیمار ہو چکا تھا اور اس کو آگے لے جانا بظاہر ممکن نہیں آتا تھا، اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اس کو ایونس اور بورڈ ویلن کے ساتھ نیچے کیمپ میں بھیج دیا جائے۔ دوپہر کے قریب یہ لوگ ساتویں کیمپ کے لیے روانہ ہو گئے۔ آخری لمحے ہنٹ نے بورڈ ویلن کی کمزور حالت کے باعث اس جماعت کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ میں اور وہ ان لوگوں کی مدد کے لیے درّہ کے اوپر تک گئے اور وہاں کھڑے ہوکر ہم نے ان لوگوں کو ساتویں کیمپ کے لیے نیچے جاتے ہوئے دیکھا۔

تمام دن ہوا کا زور نہیں ٹوٹا اور ہم نے مایوس ہوکر اگلے دن درّہ سے نکل کر اوپری حصہ میں کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا، کیوں کہ اگر ہم اس درّہ میں پڑے رہتے تو نتیجہ حالات کے اور زیادہ خراب ہونے اور ہماری کمزوری کی صورت میں ظاہر ہوتا۔

دوسرے دن صبح بھی ہوا کا وہی زور تھا لیکن آٹھ بجے کے قریب اس کے زور میں کمی ہو گئی اور ہم نے روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن ایک اور مصیبت آن پڑی۔ پیمبا سخت بیمار ہوگیا، وہ آگے نہیں جا سکتا تھا۔ اب صرف ایک قلی رہ گیا ، جو ہمارا سامان لے جا سکتا تھا وہ تھا آنگ نائمبا۔ ہمارے ساتھ تین قلی تھے، اب ان میں سے صرف ایک رہ گیا تھا۔ لیکن ہم آگے بڑھنے کی کوشش کو ترک بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے ہم نے خیمہ خود ہی لے جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے سامان باندھ لیا، البتہ غیر ضروری چیزوں کو وہیں چھوڑ دیا، یہاں تک کہ بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے ہمیں آکسیجن کے ذخیرے میں بھی کمی کرنی پڑی۔

پونے نو بجے گریگوری، آنگ نائمبا روانہ ہوگئے، ہر ایک کے پاس چالیس پونڈ وزن تھا اور ہر شخص چار لیٹر فی منٹ کے حساب سے آکسیجن سانس کے ساتھ جذب کر رہا تھا، تینزنگ اور میں بعد کو روانہ ہونے والے تھے تاکہ ہم اس راستے پر جو ہم سے آگے جانے والے بنائیں آسانی سے چل سکیں اور اس طرح ہماری طاقت بھی برقرار رہے اور ہم آکسیجن کا استعمال بھی کم کریں۔ ہم نے اپنے کپڑے، بستر، خوراک اور آکسیجن سیٹ باندھے اور دس بجے روانہ ہوگئے۔

ہم آہستہ آہستہ طویل ڈھالوں پر چڑھتے رہے، اور برفانی چشمے کے نچلے حصہ تک پہنچ گئے، اس کے بعد ہم اس زینہ پر چڑھنے لگے جو لو نے برف کے چشمہ کے ڈھال پر بنایا تھا، جب ہم اس زینہ پر چڑھ رہے تھے تو برف کے ٹکڑے ہمارے اوپر گر رہے تھے، کیوں کہ ہم سے اوپر لو اور گریگوری برف کو کاٹ کر سیڑھیاں بنا رہے تھے، ہم دوپہر کے وقت جنوب مشرقی پہاڑی پر پہنچ گئے۔ یہاں ہمیں اپنی جماعت کے وہ لوگ مل گئے جو ہم سے آگے جا چکے تھے۔ قریب ہی ہمیں ٹوٹا پھوٹا خیمہ نظر آیا جو سوئزر لینڈ کے کوہ پیماؤں نے گزشتہ سال قائم کیا تھا اور جہاں سے تینزنگ اور لیمبرٹ نے چوٹی پر پہنچنے کی بہادرانہ کوشش کی تھی۔

یہ جگہ بہت ہی حیرت انگیز تھی۔ چاروں طرف خوب صورت مناظر تھے۔ ہم نے اس مقام پر بہت سے فوٹو لیے، یہاں ہم بہت خوش تھے اور ہمیں یقین تھا کہ ہم جنوب مشرقی پہاڑی پر اپنا خیمہ نصب کرسکیں گے۔ ذخیرہ 27350 فٹ بلندی پر تھا لیکن چوٹی کے مقابلہ میں پھر بھی بہت نیچے تھا اور ہمیں زیادہ اوپر جانا تھا، اس لیے اپنے سامان کے علاوہ ہم نے اس ذخیرے سے بھی کچھ سامان لیا۔ گریگوری نے کچھ آکسیجن بھی لی، لو نے خوراک اور تیل وغیرہ لیا اور میں نے ایک خیمہ لیا، آنگ نائمبا کے پاس تقریبا چالیس پونڈ وزن تھا لیکن ہمارے پاس 35 یا 36 پونڈ وزن تھا۔ ہم آہستہ آہستہ پہاڑی پر چڑھتے رہے، وزن کے باوجود ہم برابر آہستہ آہستہ اوپر چڑھ رہے تھے۔ چٹان بہت ڈھلوان تھی اور لو نے پچاس فٹ تک زینہ بنادیا تھا۔

تین بجے ہم تھک گئے اور کیمپ قائم کرنے کے لیے جگہ کی تلاش کرنے لگے۔ لیکن کوئی مناسب جگہ نہیں مل سکی اور ہم اوپر چڑھنے پر مصروف ہوئے۔ ہم آہستہ آہستہ چڑھتے رہے لیکن ہمیں پھر بھی کیمپ کے واسطے مناسب جگہ نہیں ملی۔ ہم ناامید ہوتے جارہے تھے کہ تینزنگ کو یکایک خیال آگیا کہ اس مقام پر گزشتہ سال اس نے کہیں کوئی چوڑ اخطہ دیکھا تھا چنانچہ اس نے ہم کو بائیں طرف چلنے کو کہا اور ہم بالآخر ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں کیمپ قائم کیا جا سکتا تھا۔

ڈھائی بج چکے تھے۔ ہم نے یہاں کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، تمام دن لوہسٹے کی شان دار چوٹی کو دیکھتے رہے تھے لیکن اب یہ چوٹی ہمیں اپنے نیچے نظر آرہی تھی، اس وقت ہم 27900 فٹ کی بلندی پر تھے۔ لو، گریگوری اور آنگ نائمبا نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے اپنے وزن زمین پر ڈال دیے۔ وہ تھکے ہوئے تھے لیکن انہیں یہ اطمینان ضرور تھا کہ وہ کافی بلندی تک پہنچ چکے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسرے دن کی کام یاب چڑھائی ان کی ہی کوششوں کے باعث عمل میں آئی، انہوں نے وقت ضائع نہیں کیا اور وہ جنوبی درّہ کے عقب میں چلے گئے۔

ہم نے اپنے ساتھیوں کو خوش خوش واپس جاتے ہوئے دیکھا، گو ہم تنہا رہ گئے۔ پھر بھی ہمیں اس کام یابی پر مسرت تھی، ہمیں بہت کام کرنا تھا، ہم نے آکسیجن سیٹ علیحدہ کردیے اور کدالوں سے اس جگہ کو صاف کرنے لگے۔ ہم تمام برف کھودنے میں کام یاب ہوگئے، چٹان نظر آنے لگی اور ہم خیمہ کے نصب کرنے کے لیے دو گز لمبے اور ایک گز چوڑے دو ٹکڑے بنا سکے۔ لیکن ان دونوں کی سطح میں ایک فٹ کا فرق تھا، یہاں ہم نے اپنا خیمہ نصب کر دیا، سورج غروب ہونے پر ہم اپنے خیمہ میں داخل ہوگئے، تمام گرم کپڑے پہن لیے اور بستروں میں گھس گئے۔

چار بجے ہوا خاموش تھی۔ میں نے خیمہ کا دروازہ کھولا اور باہر دیکھا۔ وہاں نیپال کی وادیاں نظر آئیں۔ برفیلی چوٹیاں ہمارے نیچے صبح کی ہلکی روشنی میں چمک رہی تھیں، تینزنگ نے تھیانگ بوش کے بت خانے کی طرف اشارہ کیا۔ جو ہم سے 16 ہزار فٹ نیچے دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔

ساڑھے چھے بجے صبح ہم خیمہ سے نکل کر برف پر آئے، آکسیجن سیٹ اپنی پیٹھ پر لادا اور آکسیجن جذب کرنے لگے۔ چند گہری سانسیں لینے کے بعد ہم پھر چلنے کو تیار ہوگئے۔

ہم آہستہ آہستہ مستقل بڑھتے چلے جارہے تھے ہمیں رک کر سانسیں لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں راستہ بناتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا اور تینزنگ میرے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔

جس مقام سے ہم گزر رہے تھے وہ نہایت خطرناک تھا۔ آٹھ ہزار فٹ نیچے ہمیں چوتھا کیمپ نظر آرہا تھا۔ لیکن ہم نے نہ محنت میں کمی اور نہ احتیاط کو ہاتھ سے چھوڑا۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا تینزنگ کے قدم آہستہ پڑنے لگے اور اس کے لیے سانس لینا مشکل ہورہا ہے، تینزنگ کو آکسیجن کے اثرات کا بہت کم احساس تھا، میں نے اس کی حالت دیکھ کر محسوس کیا کہ آکسیجن کی کمی ہوگئی، میں نے اس کی آکسیجن ٹیوب دیکھی تو اس کو برف سے بند پایا، میں نے اس ٹیوب کو صاف کیا اور تینزنگ آکسیجن سانس کے ذریعہ جذب کرسکا، میں نے اپنی ٹیوب دیکھی وہ بھی برف کے باعث بند ہوگئی تھی اس کو بھی میں نے صاف کیا۔

اسی طرح ایک گھنٹہ چلنے کے بعد ہمیں ایسی مشکل پیش آئی جو بظاہر حل ہوتی ہوئی نہیں معلوم ہوتی تھی، ہمارے سامنے تقریباً چالیس فٹ اونچی ایک چٹان کھڑی تھی جس پر چڑھنا بالکل ناممکن معلوم ہوتا تھا، اس چٹان کو میں ہوائی جہاز کے ذریعے لیے ہوئے فوٹو میں دیکھ چکا تھا، نیز اس کو اپنی دور بین کے ذریعے بھی دیکھ چکا تھا۔ میں نے ہمّت کی اور تینزنگ کو نیچے چھوڑ کر اس نکلی ہوئی برف کو پکڑ کر اور اس شگاف میں اپنے پاؤں کاندھے اور ہاتھ جماتا ہوا آگے اوپر چڑھنا شروع کیا۔ اوپر چڑھتے ہوئے میں یہ دعا بھی کرتا جاتا تھا کہ یہ برف کے چھجے ٹوٹیں نہیں ورنہ سوائے موت کے اور کوئی صورت ہی نہیں تھی۔

آخر کار میں چٹان کے اوپر پہنچ گیا، تینزنگ بھی اسی طرح اوپر آیا، میں نے پھر سیڑھیاں بنانی شروع کر دیں۔ ایک دوسرا موڑ آیا اور جب میں برف کاٹنے لگا تو میں سوچنے لگا کہ ہم اس طرح کہاں تک بڑھتے چلے جائیں گے اس وقت چوٹی پر پہنچنے کا ہمارا جوش ختم ہوچکا تھا، اور ہم اپنے آپ کو موت سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ میں نے اوپر دیکھا اور ایک تنگ حصہ چوٹی تک جاتا ہوا نظر آیا، سخت جمی ہوئی برف میں میں نے تھوڑی دیر اور راستہ بنایا اور ہم دونوں چوٹی پر پہنچ گئے۔

چوٹی پر پہنچ کر مجھے بڑا سکون محسوس ہوا، ہمارا سفر ختم ہوچکا تھا۔ اب ہمیں نہ برف کو کاٹنا تھا، نہ چٹانوں کو عبور کرنا تھا اور نہ ٹیلوں کو پار کرنا تھا، میں نے تینزنگ کی طرف دیکھا، اس کا چہرہ آکسیجن نقاب اور برف سے چھپا ہوا تھا۔ پھر بھی وہ مجھے چمکتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنے چاروں طرف دیکھ رہا تھا، ہم دونوں نے ہاتھ ملائے، تینزنگ نے اپنے ہاتھ میرے گلے میں ڈال دیے، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو تھپتھپایا، یہاں تک کہ ہم تھک گئے، ساڑھے گیارہ بجے تھے اور ڈھائی گھنٹہ میں ہم نے پہاڑ کے اس ابھرے ہوئے حصہ کو طے کیا تھا جو چوٹی سے نیچے واقع تھا۔

میں نے آکسیجن سیٹ اتار دیا، میرے پاس کیمرہ تھا جس میں رنگین فلم چڑھی ہوئی تھی۔ میں نے اس کو نکالا اور تینزنگ کو کھڑا کر کے اس کا فوٹو لیا۔ تینزنگ کے ہاتھ میں کدال تھی جس پر جھنڈے لہرا رہے تھے، یہ جھنڈے برطانیہ، نیپال ،اقوامِ متحدہ اور ہندوستان کے تھے۔

تب میں نے اپنے چاروں طرف دیکھا چوٹی سے اردگرد کا ملک صاف نظر آرہا تھا۔ مشرق میں مکالو کی چوٹی تھی، جس پر ابھی تک کوئی نہیں پہنچ سکا تھا۔ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچ کر میری ہمتیں بڑھ گئی تھیں اور میں یہ دیکھنے لگا کہ مکالو کو جانے والا کوئی راستہ موجود ہے یا نہیں۔ بہت دور پہاڑوں میں کنچن جنگا کی چوٹی افق پر دکھائی دے رہی تھی۔ وہاں سے نیپال کا علاقہ صاف نظر آرہا تھا۔ شمال کی طرف وہ مشہور راستہ دکھائی دے رہا تھا جس پر سے میں 1920 اور 1930 میں ایورسٹ پر چڑھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

میں نے اپنے آکسیجن سیٹ کی پھر جانچ کی اور اس کے مطابق واپسی کے سفر کا حساب لگایا۔ اور بالآخر واپس ہو گئے۔

جب ہم کام یابی سے ڈھلوان حصہ سے اتر کر چٹانی حصہ پر پہنچ گئے تو ہم دونوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ ہم بہت تھک چکے تھے۔ ہمیں اب جنوبی درّے تک پہنچنا تھا۔

یہاں ہمیں ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے جانے کے بعد جو سخت ہوا چلی تھی اس کے باعث ہماری بنائی ہوئی سیڑھیاں ختم ہوچکی تھیں۔ برف بغیر کسی نشان کے تھی، اس لیے ہمیں مجبوراً پھر راستہ بنانا پڑا، بڑی ناخوش گواری سے میں نے پھر برف کاٹنی شروع کی۔ ہوا سخت تیز تھی اور ہر لمحہ یہ خطرہ تھا کہ ہمیں اڑا کر لے جائے گی، دو سو فٹ تک میں نے راستہ بنایا، پھر تینزنگ راستہ بنانے لگا۔ سو فٹ تک اس نے یہ کام کیا۔ کچھ دور کے بعد نرم برف آگئی جس میں چلنا نسبتاً آسان ہوگیا اور ہم جنوبی درّہ پہنچ گئے۔

ہم ایورسٹ کی چوٹی پر صرف 15 منٹ ٹھہرے، اس وقت ہم پر اپنے سفر کا رد عمل شروع ہو چکا تھا، ہم تیزی کے ساتھ پہاڑوں سے نکل جانا چاہتے تھے۔ ہمارا کام ختم ہو چکا تھا، لیکن ہمیں واپس ہونا تھا اور ان ہی خطرات سے پھر گزرنا تھا، جن سے گزر کر ہم چوٹی تک پہنچنے میں کام یاب ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں