site
stats
پاکستان

غیر ملکی کوہ پیماؤں کو پاکستان میں داخلے سے روک دیا گیا

اسلام آباد : پاکستان کے الپائن کلب کے مطابق کئی کوہ پیما جو باقاعدگی سے پہاڑ سر کرنے کے لیے پاکستان کا سفر کرتے ہیں، انھیں موسم گرما میں پاکستان میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیپالی کوہ پیما ،ایک آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کی کوہ پیما کرس جینسن برک کو پاکستان میں اترتے ہی واپس بھیج دیا گیا تھا، برک کو مارچ 2016 میں پاکستان کا ویزہ ملا اور پہاڑ سر کرنے کا اجازت نامہ مئی 2016 میں ملا۔

برک قراقرم رینج کی باقاعدہ مسافر رہ چکی ہے اور دنیا کی چار بلند ترین چوٹیاں کو 8000 میڑ بلند ہے سر کر چکی ہے، انھوں نے 14 میں سے 9چوٹیاں کی، جن میں سے تین پاکستان میں ہیں۔

کرس جینسن برک پہلی نیوزی لینڈ کی خاتون کوہ پیما ہیں، جنھوں نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو، دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی لہوٹسے، پانچویں بلند ترین چوٹی مکالو اور 11 ویں بلند ترین چوٹی گیشربرم 1 کو سر کیا ہے۔

برک 2015 میں براڈ چوٹی پر ایک ناکام مشن کے بعد اس سال واپس جارہی تھی اور انکے ساتھی پارٹنر لاکپا کو بھی لوٹنا پڑا۔

گلگت بلتستان کونسل کے مطابق دنیا بھر سے اس مہم پر آئے کوہ پیماؤں کے تمام دستاویزات جمع کئے جاتے ہیں پھر دستاویز ات کو وزارت داخلہ یا فوج کے پاس جانچ پڑتال کیلئے بھیجا جاتا ہے، جس کے بعد ویزے اور چوٹی سر کرنے کے اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top