بدھ, اگست 19, 2026
اشتہار

چلتی گاڑی میں آگ لگنے کی وجوہات کیا ہیں؟ آٹو موبائل ایکسپرٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (8 جنوری 2026): چلتی گاڑی میں اچانک آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر آٹو موبائل ایکسپرٹ سنیل سرفراز منج نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ناقص مینٹیننس اور غیر معیاری الیکٹریکل کام کو اس کی بنیادی وجہ قرار دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے آٹو موبائل ایکسپرٹ سنیل سرفراز منج نے چلتی گاڑی میں اچانک آگ لگنے کی وجوہات بیان کی ہیں۔

سنیل سرفراز منج کے مطابق پاکستان میں گاڑیوں میں آگ لگنے کے پیچھے تین اہم عوامل ہوتے ہیں جو ناقص موڈیفیکیشن، فیول سسٹم کی خرابی اور کیٹلیٹک کنورٹر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں مالکان ہوشیار ہو جائیں!

انہوں نے بتایا کہ لوگ گاڑیوں میں اضافی لائٹس، ہارن اور دیگر برقی آلات لگواتے وقت سستی وائرنگ اور غیر ہنر مند کاریگروں کا انتخاب کرتے ہیں جو شارٹ سرکٹ کا باعث بنتا ہے۔

’پرانی گاڑیوں میں پیٹرول کی پائپ لائنیں وقت کے ساتھ ساتھ گل جاتی ہیں جن سے اخراج کی صورت میں معمولی سی چنگاری پوری گاڑی کو خاکستر کر سکتی ہے۔ گاڑی کی صفائی نہ ہونے سے انجن زیادہ ہیٹ اپ ہوتا ہے جو آگ لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔‘

چلتی گاڑی میں آگ لگ جائے تو کیا کریں؟

آٹو موبائل ایکسپرٹ نے اس حوالے سے مشورہ دیا کہ اگر گاڑی چلاتے ہوئے جلنے کی بو آئے یا دھواں دکھائی دے تو فوری انجن بند کریں اور مسافروں سمیت فوراً باہر نکلیں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر دروازے لاک ہو جائیں تو ہیڈ ریسٹ نکال کر اس کی لوہے کی راڈ سے شیشہ توڑیں، گاڑی میں فائر ایکسٹنگوئشر لازمی رکھیں کیونکہ پانی پیٹرول کی آگ نہیں بجھا سکتا۔

سنیل سرفراز منج نے زور دیا کہ پاکستان میں ’استاد کلچر‘ کے بجائے صرف مستند اور کمپنی کے ماہر مکینک سے کام کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ پرانی گاڑیوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کیلیے ان کے ربڑ کے پائپ، وائرنگ اور فیول فلٹر کا باقاعدگی سے معائنہ بے حد ضروری ہے تاکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مزید جاننے کیلیے ویڈیو دیکھیں:

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں