The news is by your side.

Advertisement

جس جگہ میرے والد کو کچلا گیا ملزم کو وہیں‌ پھانسی دی جائے، بیٹی

کوئٹہ: رکن بلوچستان اسمبلی مجید اچکزئی کی گاڑی سے کچلے گئے ٹریفک پولیس کے اہلکار عطا اللہ کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی صلح نامہ نہیں کیا، بیٹی نے کہا کہ جس جگہ میرے باپ کو کچلا گیا ایم پی اے کو اسی جگہ پھانسی دی جائے۔

اے آر وائی نیوز نے مرحوم پولیس اہلکار کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے بات چیت کی، بیٹی شائستہ عطا نے صلح نامے کی خبروں کی تردید اور واضح کیا کہ مجید اچکزئی سے کسی قسم کا صلح نامہ نہیں ہورہا اور نہ وہ صلح کرنا چاہتے ہیں۔

شائستہ عطا نے کہا کہ ہم نے کسی قسم کا راضی نامہ نہیں کیا، ہم خود مرجائیں گے لیکن اپنے والد کے معاملے میں انصاف چاہیں گے، چیف جسٹس سے ہمارے ساتھ انصاف کریں۔

دیکھیں ویڈیو:

بیٹی نے کہا کہ ہمارے والد محترم کو جس طرح ملزم نے بے دردری سے کچلا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ملزم کو اسی جگہ پھانسی دی جائے تاکہ وہ نشان عبرت بن جائے۔

اسی سے متعلق: ٹریفک سارجنٹ کو کچلنے والا رکن اسمبلی ایک اور مقدمے میں اشتہاری

مرحوم پولیس اہلکار عطا اللہ کی بیوہ نے کہاکہ مجھے راضی نامہ نہیں، انصاف چاہیے۔

قبل ازیں خبریں سامنے آئی تھیں کہ مرحوم کے اہل خانہ اور مجید اچکزئی کے درمیان صلح ہوگئی اور صلح نامہ تیار کرلیا گیا ہے تاہم اہل خانہ نے اس کی تردید کی۔

سارجنٹ کے بیٹے نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نہ نے صلح کی ہے اور نہ کریں گے، دادا اور چاچا سے دھوکے سے صلح نامے پردستخط کرائے گئے، ہم اپنے  والد کا خون معاف نہیں کریں گے، ہمیں چیف جسٹس سے انصاف کی امید ہے۔

یاد رہے کہ عبدالمجید اچکزئی نے چند روز قبل اپنی گاڑی سے سڑک پر کھڑے ٹریفک وارڈن کو کچل دیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے  سپریم کورٹ نے بھی اس واقعہ کا از خود نوٹس لے لیا اور آئی جی بلوچستان سے تین دن میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ نوٹس انہوں نے عمرہ پر روانہ ہونے سے قبل لیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں