site
stats
سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ کی مداخلت پر متحدہ کے 6 کارکنان رہا

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر ایم کیو ایم کے گلستان جوہر سے گرفتار ہونے والے 6 کارکنان رہا کردئیے گئے۔

Six MQM workers released on directives on Chief… by arynews

تفصیلات کے مطابق کارکنان کی گرفتاریوں اور چھاپوں کے ایم کیو ایم کی جانب سے خلاف کراچی پریس کلب پر گزشتہ روز سے تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ بھوک ہڑتال کے دوسرے روز وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر و رہنماء ایم کیو ایم خواجہ اظہار الحسن سے رابطہ کر کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

پڑھیں :  گرفتاریوں کے خلاف ایم کیو ایم کے کارکنان کا شاہراہ فیصل پر احتجاج

جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو ہدایات جاری کیں کہ ’’گلستان جوہر سے گرفتار افراد میں اگر کوئی بے گناہ ہیں تو انہیں رہا کردیا جائے، جس کے بعد پولیس کی جانب سے متحدہ کے 6 کارکنان ارسلان علی، محمد عدیل، طلحہ علی سمیت دیگر تین کارکنان کو رہا کردیا گیا۔

ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ نے متحدہ کے کارکنان کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’وزیر اعلیٰ سندھ کی مداخلت اور ہدایت کے بعد پولیس نے بے گناہ کارکنان کو رہا کردیا ہے، رہائی پانے والے تمام کارکنان گلستانِ جوہر سیکٹر سے گرفتار کیے گئے تھے‘‘۔

مزید پڑھیں: کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف ایم کیو ایم کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال

کارکنان کی رہائی کے بعد دونوں جماعتوں کی قیادت نے رابطہ کیا، جس میں وزیر اعلیٰ نے متحدہ کی قیادت کو خیر سگالی کا پیغام دیتے ہوئے بھوک ہڑتال ختم کرنے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منگل کے روز گلستان جوہر میں واقع ایم کیو ایم کے دفتر کا محاصرہ کر کے وہاں موجود 7 کارکنان کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، گرفتار ہونے والے افراد میں بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونے والے جنرل کونسلر بھی شامل تھے۔

خبر پڑھیں :  ایم کیو ایم کا ٹی او آر کمیٹی سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ

بعدازاں عوام کی بڑی تعداد نے شاہراہ فیصل تھانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے پہنچی جس کے بعد شاہراہ فیصل کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا تاہم ایس پی گلشن اقبال کے ساتھ کامیاب مذاکرات اور کارکنان کی گرفتاری ظاہر ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے مظاہرہ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top