پاکستان مخالف تقریر: ایم کیوایم کے قائد نے آرمی چیف سے معافی مانگ لی -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان مخالف تقریر: ایم کیوایم کے قائد نے آرمی چیف سے معافی مانگ لی

لندن: ایم کیو ایم کے قائد نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ بشمول آرمی چیف جنرل راحیل شریف، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور پاکستان کے خلاف الفاظ استعمال کرنے پر معافی مانگ لی.

تفصیلات کےمطابق متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کا معافی نامے میں کہنا تھا کہ انہوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ساتھیوں سے ٹیلیفونک خطاب میں پاکستان کے خلاف جو الفاظ استعمال کیے،وہ انتہائی ذہنی دباؤ کے نتیجے میں کہے گئے.

ایم کیوایم کے قائد نے کہا کہ ‘شدت جذبات سے مغلوب ہوکر میں جو الفاظ ادا کر بیٹھا،وہ مجھے ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے’.

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے اپنی تقریر کے دوران پاکستان مخالف الفاظ استعمال کرنے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں پاکستان کے عوام،مسلح افواج،جنرل راحیل شریف اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سے خلوص دل سے معافی کا طلبگار ہوں اور ان سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے الفاظ کی سزا ایم کیو ایم اور اس کے کارکنان کو نہ دیں’.

ایم کیو ایم قائد نے درخواست کی کہ ان کی پارٹی کو قومی دھارے سے نہ نکالا جائے اور متحدہ کو ملک کی سلامتی،بقاء اور ترقی و خوشحالی کے لیے کام کرنے دیا جائے.

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بزرگوں نے بڑی قربانیاں دے کر پاکستان بنایا تھا،وہ کس طرح ملک کے خلاف بات کرسکتے ہیں.

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے کہا کہ ‘میں خلوص دل سے کہتا ہوں کہ ایم کیو ایم پاکستان کی دشمن نہیں، کچھ عناصر نے فوج اور ایم کیو ایم میں دوریاں پیدا کی ہیں،پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم مل کر ہی اس ملک کو آگے لے کر جاسکتے ہیں’.

انہوں نے گذشتہ روزاے آر وائی کے دفتر پر حملے کے واقعے پر میڈیا کے ‘ایک ایک ساتھی’ سے معافی مانگی اور مطالبہ کیا کہ متحدہ کے تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کو رہا کیا جائے اور انھیں سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی جائے.

*کراچی: ایم کیو ایم کارکنان کا اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ

یاد رہے کہ گذشتہ روز کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتال کیمپ میں بیٹھے ایم کیو ایم کارکنوں سے خطاب کے دوران قائد ایم کیو ایم نے ملک مخالف نعرے لگوائے تھے،جس کے بعد کارکن مشتعل ہوگئے.

ایم کیو ایم کے کارکنان آر وائی نیوز کے دفتر میں گھس گئے اور وہاں نعرے بازی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی جبکہ فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیاتھا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں