کراچی: شدید گرمی میں مختلف علاقوں میں 21 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر ایم کیو ایم نے کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ دیا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے شہر میں جاری بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہریوں پر "ظلم” قرار دے دیا ہے۔
ایم کیو ایم نے وزیراعظم شہباز شریف سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک ایک نااہل ترین ادارہ بن چکا ہے جسے کراچی کے شہریوں پر ظلم کرنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔ ادارہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے بجلی چوری جیسے الزامات کا سہارا لیتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ شہر کے کئی علاقوں میں 21، 21 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ یہاں تک کہ جو علاقے "لوڈشیڈنگ فری” قرار دیے گئے تھے، وہاں بھی بدترین کٹوتی کی جا رہی ہے۔
انھوں نے مزید کہا شدید گرمی کے دوران بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ شدید ذہنی اذیت اور مشکل کا شکار ہیں۔
ایم کیو ایم نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں سب سے مہنگی بجلی استعمال کرنے والے کراچی کے شہری بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی کے آگے تمام حکمران بے بس نظر آتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک نے نااہلی اور غنڈہ گردی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے شہریوں پر ہونے والے اس ظلم کا ازخود نوٹس لیا جائے، کے الیکٹرک جیسی "انسان دشمن” کمپنی کا لائسنس فوری منسوخ کیا جائے اور بجلی کی فراہمی کا ذمہ کسی قابل اور اہل کمپنی کے سپرد کیا جائے۔
ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ کراچی کے عوام اب اس صورتحال کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور اگر لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم نہ ہوا تو احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔


