The news is by your side.

Advertisement

’بانی ایم کیو ایم سےاشتعال دلانے پر الگ نہیں ہوئے‘

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ بانی ایم کیو ایم اشتعال دلانے پر پارٹی سے الگ نہیں ہوئے تھے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ہر لمحہ پرجوش‘ میں ایم کیو ایم تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ بانی ایم کیو ایم پر نفرت انگیز تقاریر کے الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں، وہ ملک مخالف نعرے لگانے پر الگ ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کوغداری یا کسی کومحب وطن کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتا، ہمارے خلاف تو تالیاں بجانے پرمقدمات بنائے گئے تھے۔

فاروق ستار نے مزید کہا کہ آج بھی ایم کیوایم کیساتھ ہوں، تھا اور رہوں گا، آج بھی چاہتا ہوں ایم کیوایم دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑی ہو۔

اس سے قبل ان کا کہناتھا کہ خوشی فہمی تھی کہ لندن سے علیحدگی کے بعد مڈل کلاس جماعت بنالوں گا، پارٹی کو جگاڑ والے اور خرابیوں والوں سےصاف کرنا چاہتا تھا مگر خرابی اتنی سرائیت کرگئی کہ وہ میرے ہی پیچھے پڑگئے۔

مزید پڑھیں: سانحہ 12 مئی میں کون کون ملوث تھا؟ فاروق ستار کے چشم کشا انکشافات

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم کے موجودہ سربراہ خالد مقبول کا بلدیاتی دور بدترین تھا، کرپشن کرنے میں پیپلزپارٹی اے ٹیم تو ایم کیوایم کےکچھ لوگ بی ٹیم ہیں۔

اروق ستار نے انکشاف کیا کہ 22 اگست واقعے کے اگلے روز ندیم نصرت نے مجھے فون کیا اور کہا کہ بانی ایم کیوایم معافی مانگ رہےہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ ان کا معافی نامہ پریس کانفرنس میں دکھائیں، میں نےکہا کہ نہیں دکھاؤں گا اب میں علیحدہ ہوں، یہی نہیں ایم کیوایم بانی کےبہنوئی یونس بھائی نےملنےکا کہا تو میں نےانکار کردیا۔

فاروق ستار نے اپنے تہلکہ خیز انٹرویو میں بتایا تھا کہ اس کے باوجود ایم کیوایم ، پی ایس پی نے پروپیگنڈا کیا کہ میرا لندن سے رابطہ ہے، پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرا لندن سے رابطہ ہوتا تو کیا انٹیلی جنس اداروں سےچھپ سکتا ہے؟ میں امریکا بھی جاؤں تو یہاں تاثر دیاجاتاہے کہ لندن سے رابطہ کیا ہے، واضح طور پر بتادوں کہ گذشتہ 6 سالوں سےمیرا لندن سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں