The news is by your side.

Advertisement

اتحادی جماعت حکومت سے ناراض، علیحدگی کا اشارہ دے دیا

کراچی: متحدہ قومی موؤمنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے مردم شماری کے معاملے پر وفاقی حکومت سے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اتحاد ختم کرنے کا عندیہ دے دیا۔

اسلام آباد پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھاکہ حکومت نے ابھی تک کسی بھی ایک وعدے پر عمل نہیں کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب حکومت وعدے پورے نہیں کررہی تو پھر ہم اُس کا ساتھ کیوں دیں، کراچی کے عوام مسائل میں گھرے ہوئے ہیں مگر کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’ہمارا وعدہ تھا حکومت گرنے نہیں دیں گے، اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کیے وعدے پورے کریں‘۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کراچی میں سب سے بڑا مینڈیٹ اُن کا ہی ہے،  مردم شماری میں کراچی کی آبادی کم جبکہ ووٹرز کی تعداد زیادہ دکھائی گئی‘۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنونیئر کا کہنا تھاکہ ’ضلع وسطی کی آبادی 38 لاکھ ہے جبکہ شناختی کارڈ 39 لاکھ ہیں، مردم شماری میں پچاس فیصد عوام کو کم گنا گیا ہے‘۔

خالد مقبول صدیقی کا  کہنا تھا کہ ’ اس مردم شماری کی وجہ سے سندھ سیکریٹریٹ اب سندھی سیکریٹریٹ بن چکا ہے جبکہ سندھو کا اعلان بھی باقی رہ گیا ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ایوانوں سے مایوس ہوکر سڑکوں پر آنے اور اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھنے کے علاوہ اب ہمارے پاس کوئی اور دوسرا راستہ نہیں بچا، ہم نے حکومت کو قائم رکھنے کا وعدہ نہ صرف نبھایا بلکہ اُس پر قائم بھی رہے ہیں‘۔

دوسری جانب کنونیئر ایم کیو ایم پاکستان نے کل رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی امین الحق کو بھی اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایم کیو ایم ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے غور کیا جائے گا جس کے بعد پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں اہم اعلانات متوقع ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں