عوام کے پیسوں سے بینک بیلنس بنایا گیا، متحدہ کا پی پی کے خلاف وائٹ پیپر MQM
The news is by your side.

Advertisement

عوام کے پیسوں سے بینک بیلنس بنایا گیا، متحدہ کا پی پی کے خلاف وائٹ پیپر

کراچی: ایم کیو ایم نے سندھ حکومت کی کارکردگی کے خلاف وائٹ پیپر جاری کردیا۔ متحدہ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، شہریوں کے پیسوں سے بینک بیلنس کو آسمان تک پہنچایا گیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے سیاہ کارناموں کا وائٹ پیپر جاری کررہے ہیں، سندھ حکومت نے صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور شہری سندھ کے عوام کے ساتھ نفرت ، تعصب کو پروان چڑھایا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ حکومت نے صوبے کو ملنے والےبجٹ سے صرف اپنے بینک بیلنس بڑھائے، وفاق سے ملنے والے حصے سے شہر کو 52 اعشاریہ 5 فیصد ملنا چاہیے جبکہ پی پی حکومت سے چار فیصد بھی نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاق سے وسائل ملنے کے باوجود کے ایم سی کو 30 ارب روپے کا بجٹ تک نہیں دیا گیا جبکہ صوبے کے 130 ارب روپے کے وسائل میں سے شہری سندھ کو اُس کا جائز 7 فیصد حصہ بھی نہیں دیا گیا۔

متحدہ پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ میئر کراچی نے چین کے سفیر سے ملاقات کر کے سرکلر ریلوے کو سی پیک منصوبے میں شامل کروایا جبکہ سندھ حکومت کے اس کے لیے سنجیدہ نہیں تھی، اس کے باوجود سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ سے منتخب ہونے والے میئرز کو اختیارات نہیں دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ترقیاتی مد میں 700 ارب کے بجٹ میں سے کراچی کو 5 سال کے دوران صرف 28 ارب روپے دیے گئے، سندھ حکومت نے کراچی سے 70 ارب روپے کا ٹیکس حاصل کیا مگر یہاں ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا، کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث افسران گرفتار ہوں گے تو سب کے نام سامنے آجائیں گے۔

سربراہ متحدہ نے کہا کہ سندھ کے نوجوانوں کو نوکریاں فروخت کی گئی، ایم کیو ایم کو نوکریاں دینے پر نہیں بلکہ ناانصافی پر اعتراض اور اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن بناکر تمام نوکریوں کی تحقیقات کی جانی چاہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں سے امتیازی سلوک کی شروعات 1970 سے پیدا ہوئیں جو آج بھی جاری ہے، شہریوں سے ٹیکس وصول کر کے اُن کا بینک بیلنس بنایا گیا جس کے باعث شہری سندھ کے لوگوں میں احساس بیگانگی اور عدم تحفظ پیدا ہوا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سندھ کو دو حصوں میں خود تقسیم کیا اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا، سندھ حکومت نے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک اور ناانصافیوں کے نئے ریکارڈ بنائے، 9 سال میں پورے سندھ کی حالت ابتر کردی گئی۔

سربراہ نے مزید کہا کہ سندھ میں حکومت نہیں بلکہ وڈیرہ شاہی کی گئی اور ضلعوں کے وسائل کو غیرمنصافانہ طریقوں سے تقسیم کیا گیا۔ فاروق ستار نے حکومت سے اپیل کی کہ نفرت اور تعصب کے سلسے کو ختم ہونا چاہیے اور سب کو برابر کے حقوق ملنے چاہیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں