جمعرات, جولائی 16, 2026
اشتہار

ایم کیو ایم میں اندرونی خلفشار بڑھ گیا، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال پھر آمنے سامنے

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (14 مئی 2026): ایم کیو ایم میں اندرونی خلفشار بڑھتا جا رہا ہے چیئرمین خالد مقبول اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں اندرونی خلفشار بڑھتا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے پر لفظوں کی گولہ باری کی۔

چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول نے حیدرآباد میں مصطفیٰ کمال کا نہ لیے بغیر کہا کہ جبر سے نہیں ڈرے اس کے غلاموں سے کیا ڈریں گے۔ ہم نہیں تم استعمال ہو رہے ہو۔ وہ ملے گا جو ایم کیوایم چاہے گی۔ اوقات میں رہو۔ اپنا قد ایم کیوایم سے چھوٹا رکھو۔

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ چیئرمین کو غیر قانونی کہنے والے خود غیر قانونی کارکن ہیں، جو تنظیم چھوڑ گیا، اس کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے۔

اس کے جواب میں وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا سمجھا رہا ہوں، سنبھل جائیں اور ہم سے مشورہ کریں۔ ہم سے کہیں ایک رات میں چیئرمین بنوا دوں۔ ٹچوں سے ڈرنے والے ہوتے تو بانی کے سامنے کھڑے نہ ہوتے۔ تم کیا ان سے بڑے بد معاش ہو۔

واضح رہے کہ مصطفیٰ کمال نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ خالد مقبول بانی متحدہ نہیں، میں بھی پارٹی چیئرمین شپ کے لیے الیکشن لڑوں گا۔

انہوں نے اس پروگرام میں کھل کر ایم کیو ایم کے اندر جاری سیاسی اختلافات اور خلفشار پر بات کی تھی۔

مصطفیٰ کمال کے اس بیان کے بعد شہر قائد میں جگہ جگہ ایم کیو ایم چیئرمین خالد مقبول صدیقی کے حق میں وال چاکنگ بھی کر دی گئی تھی۔

مصطفیٰ کمال کے بیان کے بعد خالد مقبول کے حق میں وال چاکنگ

اہم ترین

مزید خبریں