The news is by your side.

Advertisement

عدالت کا ایم کیو ایم لندن کے مفرور کارکنان کی گرفتاری کا حکم

کراچی : انسداد دہشت گردی عدالت میں ایم کیو ایم لندن کے12مبینہ را ایجنٹ کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، عدالت نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے انکشاف کیا کہ ملزم محمد شاہد عرف متحدہ، ملزم ماجد خان خفیہ ای میل چلا رہے تھے، ملزمان کو کوڈ آئی ڈی بھارتی خفیہ ایجنسی را نے فراہم کی تھی۔

ایف آئی اے کے مطابق خفیہ ای میل سے ملزمان را سے رابطہ کرتے اور ہدایت وصول کرتے تھے، تمام ہدایت بھارت میں موجود محمود صدیقی عرف امان سے ملتی تھی، ملزم محمود صدیقی متحدہ رہنما قمر منصور کا بھائی ہے۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ غیرقانونی فنڈنگ ٹرانسفر اور معلومات بھارت کو دی جارہی تھیں، ملزم محمد شاہد متحدہ لندن کا سرگرم رکن ہے اس نے بھارت کے دورے بھی کیے، شاہد را سے رابطوں میں تھا اور ماجد خان ، سراج احمد کے ساتھ سلیپر سیل چلاتا تھا۔

ملزم محمود صدیقی بھارت سے بھاری فنڈ ہنڈی کے ذریعے منگواتا تھا، بھارتی خفیہ ایجنسی فنڈ بھجواتی تھی
ملزم فنڈ مختلف بینکوں میں جمع کراتا تھا جبکہ ملزم سراج ایم کیو ایم بانی کا قریبی رشتہ دار اور عمران فاروق کے قتل میں بھی ملوث ہے۔

ملزم شہزاد پرویز متحدہ کی ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا انچارچ تھا، اس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نےمحمود صدیقی کی ہدایت پر کئی افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی، ملزم شہزاد پرویز بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تربیت یافتہ ہے۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق ملزم شہزاد پرویز کو2014کو سندھ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی کرایا گیا، شہزاد پرویز کراچی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پرملازمت کرتا رہا، کیس میں محمد شاہد، ماجد خان، عادل انصاری، سراج امجد، آصف صدیقی شامل ہیں۔

ملزم ظفرخان ، شہزاد پرویز، مصورعلی، محمد جاوید، محمد جنید جیل میں ہیں، عدالت نے مفرور ملزم محمود صدیقی عرف امان کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں