The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم لندن کوئی جماعت نہیں، خواجہ اظہار

کراچی: اپوزیشن لیڈر سندھ اور متحدہ پاکستان کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ پرویز مشرف ایم کیو ایم کو ریسکیو کررہے ہیں یا پھر ہم اسٹیبلشمنٹ کا سہارا تلاش کررہے ہیں، ایم کیو ایم وہی ہے جو پاکستان میں کام کررہی ہے تاہم ایم کیو ایم لندن نام کی کوئی جماعت نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آر میں میزبان وسیم بادامی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا۔ خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف سے دبئی میں ملاقات ہوئی تھی اُس وقت وہاں اُن کے رفقاء بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر کی اپنی جماعت کے لوگ پارٹی کے لیے صحیح کام نہیں کرسکے اور وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے تھے کہ شاید ایم کیو ایم پاکستان میں کوئی جگہ خالی ہے تاہم اگر متحدہ میں کوئی پوسٹ نکلی تو اُسے اندر سے ہی پُر کیا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر سندھ نے کہا کہ دبئی میں ہونے والی ملاقاتوں کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر ایم کیو ایم پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ایسے خبروں سے ہمارے مخالفین فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’مشرف صاحب کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ ہیں جس کے جواب میں ہم بھی اُن کا دل سے احترام کرتے ہیں تاہم ایسی کوئی صورتحال نہیں کہ انہیں پارٹی کی سربراہی دی جائے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ ’’ایم کیو ایم صرف وہی ہے جو پاکستان سے چلائی جارہی ہے، ایم کیو ایم لندن کوئی جماعت نہیں،  23 اگست کے بعد سے ہم بہت مضبوط ہوئے ہیں اور ہمارے ووٹرز سپوٹرز و اراکین اسمبلی سیاسی تبدیلیوں کو محسوس بھی کررہے ہیں‘‘۔

کراچی میں ہونے والی حالیہ چاکنگ کے حوالے سے خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ ’’22 اگست کے بعد بہت سارے لوگوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کی جس میں سندھ حکومت بھی شامل ہے، حالیہ چاکنگ یا بینرز کے حوالے سے سندھ سرکار سے مطالبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے‘‘۔

ایم کیو ایم کے رہنماء نے کہا کہ ’’ہماری کسی ادارے سے کوئی لڑائی نہیں تاہم سیاسی آزادی ملنا ہمارا حق ہے، کچھ لوگ اس چاکنگ اور بینرز سے اپنی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں تو کریں ایم کیو ایم پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں