The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم رہنماؤں کی گرفتاریاں قابل مذمت ہیں، رہا کیا جائے، ندیم نصرت

لندن : ایم کیوایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے گرفتار رہنماؤں کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم لندن کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ندیم نصرت نے کہا ہے کہ رہنماؤں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو پرامن سیاسی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، ندیم نصرت نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسر حسن ظفر عارف، کنور خالد یونس ، امجداللہ اور ظفر راجپوت کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر حسن ظفر ایک سینئر پروفیسر ہیں، کنور خالد یونس تین مرتبہ رکن سندھ اسمبلی رہ چکے ہیں انہیں کسی قانونی جواز کے بغیر گرفتار کیاگیا ہے۔

ندیم نصرت نے مطالبہ کیا کہ پروفیسر حسن ظفر،کنور خالد یونس کو فی الفور رہا کیا جائے ،انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس ظلم پر صدائے احتجاج بلند کرنے کا مطالبہ کیا، اپنے ایک جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاستی طاقت کے ذریعے ایم کیو ایم کوختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان پروفیسر حسن ظفر عارف اور کنور خالد یونس کی گرفتاری کھلا ظلم ہے، کالعدم تنظیمیں کھلے عام سرگرمیاں کررہی ہیں،پی ٹی آئی نے اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان کیاہے لیکن اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ارکان کو یادگار شہداء پر حاضری سے روکا جارہا ہے اور انہیں پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ،پروفیسر حسن ظفر ایک سینئر پروفیسر ہیں، کنور خالد یونس تین مرتبہ رکن سندھ اسمبلی رہ چکے ہیں انہیں کسی قانونی جواز کے بغیر گرفتار کیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوریت کی علمبردار بنتی ہے اس کی سندھ حکومت کے دور میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کی جمہوری اور سیاسی آزادیوں کو سلب کیا جارہا ہے۔

آپریشن صرف ایم کیو ایم کو کچلنے کیلئے کیا جارہا ہے اور ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایاجارہا ہے، ندیم نصرت نے مطالبہ کیا کہ پروفیسر حسن ظفر،کنور خالد یونس کو فی الفور رہا کیا جائے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ بند کیا جائے ، ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال بند کیا جائے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ظلم پر صدائے احتجاج بلند کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں