The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم اور فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کا اندرونی احوال

کراچی: حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے ایک بار پھر اپوزیشن کو اپنے حتمی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، اس سلسلے میں ایم کیو ایم اور پی ڈی ایم سربراہ فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کا اندرونی احوال سامنے آ گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم سے تحریک عدم اعتماد پر ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کا ساتھ دینے کی درخواست کی، تاہم جواب ملا کہ مشاورتی اور مذاکراتی عمل جاری ہے، دو سے تین دن میں حتمی فیصلہ کر لیں گے۔

ذرائع ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ خالد مقبول نے ملاقات میں کہا کہ جتنا ایم کیو ایم نے بھگتا اور برداشت کیا ہے کسی نے اپوزیشن جماعت نے بھی نہیں کیا، ہمارے لوگ لاپتا کیے گئے، آفس بند کیے گئے، پابندیاں لگائی گئیں۔

خالد مقبول نے کہا ہمارے زیادہ تر نکات صوبے سے متعلق ہیں جو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ایم کیو ایم کے نکات پر عمل درآمد تو شروع کیا جائے، کم از کم سپریم کورٹ کے بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے۔

مولانا کا کہنا تھا کہ سیاست میں راستے کھلے رکھنے چاہئیں، ہمیں مل کر لمبے عرصے کے لیے ساتھ چلنا ہے، تلخیاں کم کرنے کے لیے ماضی کو بھلانا اور آگے کی طرف یقین کے ساتھ چلنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ باقی اتحادی جماعتیں بھی ایم کیو ایم کے فیصلے کے انتظار میں ہیں، ایم کیو ایم فیصلہ کرے تو باقی اتحادی بھی فیصلہ کر کے عدم اعتماد کے اس معاملے کو یک طرفہ کر دیں گے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فضل الرحمان نے کہا شاید ایم کیوایم کو اعلان کرنے میں ایک دو دن لگ جائیں۔ خالد مقبول نے کہا آپ خوش نصیب ہیں اپوزیشن کو ان حالات کا سامنا نہیں جس کا ہمیں ہے، قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں، آپ کی وجہ سے حوصلہ ملا ہے۔

خالد مقبول کا کہنا تھا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے کے لیے ہمارے پاس سیاسی اسپیس نہیں چھوڑا گیا، حکومت میں ہونے کے باوجود 100 سے زائد کارکن لاپتا ہیں، جس جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچیں اس کا شوق ہمیں بھی نہیں ہونا چاہیے۔

فضل الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ عدم اعتماد کی تحریک کو باہر کے مہمانوں کے ذریعے کاؤنٹر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم انھیں حکومت کا نہیں قوم اور پاکستان کے مہمان سمجھتے ہیں، 25 مارچ کی شام کو قافلوں کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی ہدایت کی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کون سا بد بخت شہری ہے جو عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں