site
stats
پاکستان

حیدرآباد فائرنگ، ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹرنوشاد جاں بحق

حیدرآباد : نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر نوشاد جاں بحق ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق حیدرآبادکے علاقےحالی روڈ میں نامعلوم افراد کی جانب سے ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر نوشاد پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ، جس کے نتیجے ڈاکٹر نوشاد شدید زخمی ہوئے، انھیں زخمی حالت میں سول اسپتال لایا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے جبکہ فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

ڈاکٹرنوشادعرف دانش کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا، جب وہ بچوں کو اسکول چھوڑ کر واپس گھر آرہے تھے، حملہ آوربغیرہیلمٹ تھے، ڈاکٹر نوشاد کو پانچ گولیاں لگیں۔

حیدرآباد پیرمحمد شاہ کاکہنا ہے ڈاکٹرنوشاد کا قتل ٹارگٹ کلنگ تھا،واقعے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم کے مقتول رکن ڈاکٹر نوشاد حیدرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے ایک سیکٹر کے امور دیکھ رہے تھے جبکہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے تھے۔

دوسری جانب حیدرآباد حالی روڈ فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اے آروائی نیوز نے حاصل کرلی ہے ، سی سی ٹی وی فوٹیج میں 2موٹرسائیکل سواردیکھے جا سکتے ہیں، ایک نے نقاب لگایا تھا جبکہ دوسرابغیر نقاب کے تھا۔

فاروق ستار کی ڈاکٹر نوشاد کے بہیمانہ قتل کی مذمت

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار نے حیدرآباد زون سیکٹر ایف کے انچارج ڈاکٹر نوشاد کے بہیمانہ قتل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف مسلسل زیادتیاں ہمیں ایک بار پھر احتجاجی سیاست کی جانب دھکیلنے کی سازش ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ حکومتِ سندھ ہمیں بتا دے کہ کیا وہ بھی ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا حصہ ہے، فاروق ستار نے کہا کہ ثابت ہوگیا کہ کچھ طاقتیں تمام حربے استعمال کر کے ایم کیو ایم پاکستان کو دیوار سے لگانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر داخلہ سندھ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کر کے انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top