کراچی(13 جولائی 2026): متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے خلاف 26 جولائی سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بہادر آباد مرکز میں کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کی بحالی کے بغیر پاکستان کی معاشی استحکام ممکن نہیں، اور ملکی بقا کا دارومدار صوبائی سطح سے وسائل اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی میں ہے۔ ہم نے گورننس کا ماڈل تبدیل کرنے اور عوام کی دہلیز تک اختیارات پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کو رواں مالی سال 2,263 ارب روپے، جبکہ گزشتہ 18 برسوں میں مجموعی طور پر تقریباً 22 ہزار ارب روپے مل چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود کراچی اور حیدرآباد کے شہری مسائل جوں کے توں ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے لیکن یہاں پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی سیوریج کا کوئی نظام۔ یہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نیت اور طرزِ حکمرانی کا بحران ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کے لیے بلدیاتی نظام اور آئینی ترامیم کی شرط رکھی تھی، لیکن پیپلز پارٹی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم میں ہماری تجاویز کی مخالفت کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کے حقوق کے لیے ہمارے لیے وزارتوں کی کوئی اہمیت نہیں، اگر کابینہ کی نشستیں قربان کرنا پڑیں تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی بہت طاقتور ہے لیکن وہ اللہ سے زیادہ طاقتور نہیں، اوپر اللہ ہے اور نیچے ایم کیو ایم کے کارکنان ہیں۔ اگر اب بھی ظالم کا ہاتھ نہ روکا گیا تو اللہ کا عذاب آئے گا۔ یہ تحریک پیپلز پارٹی کے 18 سالہ مظالم کو بہا لے جائے گی۔
کارکنوں کو اتحاد کا درس دیتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ وہ ذاتی اختلافات ختم کر کے مشترکہ جدوجہد پر توجہ دیں، اور امید ظاہر کی کہ اندرونی جماعتی انتخابات سے اختلافات ختم ہو جائیں گے۔


