کراچی (31 مئی 2026): متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ 28 ویں آئینی ترمیم ہماری ہے آج نہیں تو کل لانی پڑے گی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 140 اے ایم کیو ایم پاکستان کا 30 سال سے مطالبہ ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتیں ہم آواز ہیں۔ 28 ویں آئینی ترمیم ہماری ہے آج نہیں تو کل لانی پڑے گی۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات پہلی بار نہیں ہو رہی۔ قیام پاکستان سے 1970 تک کراچی وفاق کے زیر انتظام ہی تھا۔ جب کراچی دارالخلافہ ختم ہوا، اس کے بعد بھی وفاق کراچی کو چلاتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے اہم مقامات پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ ہل پارک کی زمین 62 ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں پہاڑ شامل ہے۔ ہِل کے بغیر ہِل پارک کیسے ہوگا آج پہاڑ تو کل پارک کی زمین بھی فروخت کر دی جائے گی۔ یہ مافیا پنپ رہا ہے، کراچی والے اب یہ برداشت نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قبضہ مافیا کو چیلنج کرتی ہے۔ ہل پارک جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین کے حدود میں آتا ہے وہ کہاں ہے۔ جماعت اسلامی کے اپوزیشن لیڈر پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے قانونی مشیر ہے، لیکن جماعت اسلامی کیوں خاموش ہے۔ جماعت اسلامی بھی پیپلز پارٹی سے ملی ہوئی ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہل پارک سے متعلق مئیر کراچی تحقیقات کروائیں کہ اجازت کس نے دی؟ ڈائریکٹر لینڈ نے کس قانون کے تحت ہل پارک میں پلاٹ کی این او سی دی؟ نیب بھی ڈائریکٹر لینڈ کے خلاف تحقیقات کرے۔
انہوں نے کراچی کی ساری زمین کی لیز کے اختیارات کے ایم سی کو ، ہائیکورٹ اور نیب سے غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے گل پلازہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور اگلے سال کراچی میں ایک بار پھر ہم اپنا میئر ہی بنائیں گے۔ پی پی کا تو اندرون سندھ سے بھی جلد خاتمہ ہو جائے گا۔


