The news is by your side.

بلدیاتی قانون سے متعلق تجاویز پیش کیں‌ مگر بات نہیں‌ سُنی گئی، ایم کیو ایم

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما عامر خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ کے نئے بلدیاتی قانون سے متعلق تجاویز پیش کیں تھیں مگر ہماری بات نہیں سُنی گئی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق مسلم لیگ فنکشنل کی قیادت سے ملاقات کے بعد پگارا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے بتایا کہ نئے بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف گیارہ دسمبر کو آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے  کہا کہ ’پاکستان پیپلزپارٹی نے اس بل کی آڑ لے کر  پورےصوبےکے بلدیاتی اختیارات پرڈاکہ ڈالا، سندھ کی تباہی کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ پیپلزپارٹی ہے، نیابلدیاتی بل سندھ کےساتھ زیادتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی جعلی اکثریت کے ساتھ صوبے میں حکمرانی کررہی ہے، اندرون سندھ کے اسپتالوں میں کتےکاٹنےکی دوائی موجود نہیں جبکہ پورےصوبے میں امن وامان کی صورت حال خراب ہے۔

عامر خان نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی ترمیمی بل سے متعلق تجاویز صوبائی وزیر سعید غنی کو پیش کی تھی مگر ہماری بات نہیں مانی گئی، یہ آمرانہ سوچ ہےجس کے ہم خلاف ہیں، کیاسعیدغنی بل پاس کرانےکےبعد بات کریں گے ۔؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف سے ہمارے شکوے ہیں  کیونکہ ہماری ناامیدی کی انتہا ہوتی جارہی ہے، حکومت سے ہونے والا اتحاد کب تک چلتا ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: نیا بلدیاتی قانون: ایم کیو ایم کا سندھ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ حکومت کی جانب سے اسمبلی سے منظور کیے جانے والے بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف تمام جماعتوں کو میدان میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور پی پی پر دباؤ ڈالنے کے لیے اے پی سی کے انعقاد کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس حوالے سے ایم کیو ایم کے وفود نے آج مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف، مہاجر اتحاد تحریک، مسلم لیگ فنکشنل کے مراکز کا دورہ کیا اور قائدین سے ملاقات کر کے انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

ایم کیو ایم کے وفد نے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بلدیاتی ترمیمی ایکٹ پر اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت قبول کر کے شرکت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ایم کیو ایم کا وفد مسلم لیگ ن ہائوس پہنچا، جس کی قیادت عامر خان نے کی جبکہ دیگر اراکین میں وسیم اختر جاوید حنیف شامل تھے، مسلم لیگ ن کے  رہنما محمد زبیر، مفتاح اسماعیل اور شاہ محمد شاہ نے ایم کیو ایم وفد سے ملاقات کی اور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

دونوں جماعتوں نے کراچی کے مسائل کو حل کرنے ، نئے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف ملکر جدوجہد کرنے پر اتفاق بھی کیا۔ مفتاح اسماعیل نے نئے ایکٹ کو بلدیاتی اختیارات پر پی پی کا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی شہریوں کے حقوق پر حملے جاری رکھی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کا وفاق میں اور صوبے میں الگ الگ چہرہ ہے، وفاق میں یہ گیڈریشن کی بات کرتے ہیں صوبے میں یہ حقوق سلب کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے بلدیاتی نظام کی منظوری، ٹاؤن سسٹم پھر بحال

ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنونیئر عامر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق سے امید لگاتی ہے کہ وفاق میں اپوزیشن سے کسی بل پر مشاورت نہیں کی جاتی، صوبے میں وہ اسکے برعکس کرتے ہیں، کسی سے مشاورت نہیں کی اور جعلی اور کھوٹی اکثریت سے بل پاس کرادیا ، جو مئیر کے پاس سروسز ٹیکس ، تعلیمی اداروں یا اسپتال کے اختیارات تھے وہ بھی بچے کچے اختیارات چھین لیے ، اب کے ایم سی نام کا کے ایم سی رہ گیا ہے ، یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ مشرف دور کا بلدیاتی نظام بحال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس اقدام کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جس کے دائرہ کار کو بڑھائیں گے،  اگر اسمبلیوں کا گھیرائو کرنا پڑا تو کریں گے۔

اس موقع پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ سندھ میں فنڈز کی تقسیم این ایف سی کی بنیاد پر ہونا چاہیے ، ن لیگ کے دورِ حکومت میں فیڈرل ٹیکس ریونیو ڈبل ہوا تو صوبے کو زیادہ پیسہ ملا ، اگر کراچی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو کہیں تو سندھ حکومت کو پیسہ شہر پر ہی لگانا چاہیے۔

 سابق میئر کراچی اور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ  ایڈمنسٹریٹر کو چاہیے کہ وہ آئیں بائیں شائیں نہ کیا کریں ، یہ باتیں پرانی ہوگئی ، مرتضی وہاب کو چاہیے کہ کے ایم سی کو اختیارات واپس دلوائیں ، وہ جہاں بیٹھیں ہیں انکے پاس پائور ہے ، مراد علی شاہ کے خاص ہیں وہ وہ یہ ڈرامے نہ کریں اس شہر کے لیے کچھ کریں۔

مہاجر اتحاد تحریک کے سربراہ ڈاکٹر سلیم حیدر سے ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اسامہ قادری کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی جاوید حنیف، سابق چئرمین ایسٹ معید انور اور دیگر شامل  تھے۔

وفد نے ڈاکٹر سلیم حیدر کو سندھ حکومت کے متعصبانہ بلدیاتی بل کے خلاف اے پی سی میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی، جس پر سلیم حیدر نے مشورہ دیا کہ کراچی کے مسائل کا حل صرف اور صرف مہاجر صوبہ کے حصول سے ممکن ہے، مہاجروں کو مزید گمراہ کرنے کا وقت گزر چکا ہے، آئیں سب مل کر مہاجر امنگوں کے مطابق صوبہ کی تحریک شروع کریں، ریلیوں مظاہروں پریس کانفرنسوں سے آگے بڑھیں۔ انہوں نے  اے پی سی کے ایجنڈے میں صوبہ تحریک کو شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسے بھی پڑھیں: سندھ اسمبلی میں بلدیات ترمیم بل 2021 منظور

علاوہ ازیں عامر خان کی سربراہی میں ایم کیو ایم کے وفد نے فنکشنل لیگ کے مرکز پہنچ کر یونس سائیں سے ملاقات کی، ایم کیو ایم کے وفد میں وسیم اختر ، وزیراعلی گلگت بلتستان کے مشیر حسین شاہ شامل تھے جبکہ فنکشنل لیگ کی قیادت یونس سائیں نے کی۔

 ملاقات میں بلدیاتی قانون کی مخالفت اور پیپلز پارٹی کے اقدامات کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے پر مشاورت کی گئی جبکہ ایم کیو ایم نے فنکشنل لیگ کو گیارہ دسمبر کے اے پی سی میں شرکت کی دعوت دے دی، جسے یونس سائیں نے قبول کر کے شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں