The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کے سامنے مطالبات کی فہرست دوبارہ رکھ دی

اسلام آباد / کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وزیراعظم پاکستان سے کارکنوں کی رہائی اور حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ ایک بار پھر دہرا دیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور ایک بار پھر اپنے مطالبات اُن کے سامنے پیش کیے۔

ایم کیوایم کے وفد نے اسیر کارکنوں کی رہائی اور مقدمات واپس لینے، بند دفاتر کھولنے سمیت حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا۔

ایم کیو ایم وفد نے وزیراعظم سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’ہمارا سب سے اہم مسئلہ کراچی کی ترقی ہے، کراچی پیکج کے تحت فنڈز جاری کیے جائیں‘۔

ایم کیو ایم نے کراچی پیکج کے تحت منصوبے فوری مکمل کرنے، شہری سندھ کے نوجوانوں کو نوکریوں کے مواقع فراہم کرنے، مردم شماری کے لیے  بجٹ میں رقم مختص کرنے اور نئی مردم شماری کے لیے جلد اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیاْ

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کو اتحادی جماعت کے متعلقہ امور دیکھنے کی ہدایت کی۔

عمران خان نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، کراچی پیکج کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایم کیو ایم سے ورکنگ ریلیشن شپ مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ایم کیو ایم کے وفد میں بیرسٹر فروغ نسیم، امین الحق اور نومنتخب سینیٹر فیصل سبزواری شامل تھے جبکہ ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید، اسد عمر اور عبدالحفیظ شیخ بھی موجود تھے۔

قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے عارضی مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک بار پھر حکومت کو مطالبات پورے کرنے کی یاد دہانی کروائی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت اتنی مجبور نہیں کہ اُسے وعدےپورےکرنےمیں اتنے سال لگ جائیں،اب ہمارے لیے بھی دن گزارنا مشکل ہورہے ہیں‘۔  خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اتحادی ہونے کے ناطے حکومت سے سینیٹ سمیت اپنے کیے تمام وعدے پورے کیے، اب ہم پر کوئی ادھار نہیں ہے، اب دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کتنی مدت میں اپنے وعدوں کو پورا کرتی ہے‘۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے وزیراعظم سے تحریری معاہدے پر عمل کرنے کی درخواست بھی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں