The news is by your side.

Advertisement

بانی ایم کیو ایم کا معافی نامہ سامنے لایا جائے ،فاروق ستار

اسلام آباد : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ الطاف حسین کا معافی نامہ سامنے آچکا ہے اس کو بھی سامنے لایا جائے، ملزم کو صفائی کا موقع ملنا چاہئے۔

الطاف حسین کو صفائی کا موقع ملنا چاہئے

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ بائیس اگست کے واقعہ سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کر چکے ہیں بانی تحریک نے ایک لکیر کھینچی ہم نے بھی ان سے لا تعلقی کی لکیر کھینچ دی، ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں پوری قوم پاکستان مخالف نعرے لگانے والے کو مسترد کر چکی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ بائیس اگست کی تقریر پر آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیئے مگر انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو نے چایئے، ایم کیو ایم رکن آفتاب سمیت ہمارے 63کار کن ماورائے عدالت قتل کئے گئے ان کے قاتلوں کی بھی شناخت ہو نی چاہیئے۔

ایم کیو ایم حقیقی اور پاک سرزمین پارٹی ہمارے کار کنوں کو ڈرا دھمکا رہی ہیں

انکا مزید کہنا تھا کہ امید ہے ایوان ہماری عزت اور ابرو کی لاج رکھے گا، ایم کیو ایم حقیقی اور پاک سرزمین پارٹی ہمارے کار کنوں کو ڈرا دھمکا رہی ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہو نی چاہیئے فاروق ستار نے ایوان میں پاکستان ،سندھ اور کراچی زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے۔

وسیم اختر کے گھر کو سب جیل قرار دیا جائے

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ وسیم اختر کے گھر کو سب جیل قرار دیا جائے، ہم نے اپنے فیصلے توثیق کیلئے لندن نہیں بھیجے، اگر ملی بھگت ہوتی تو ہم ڈرے ہوئے کیوں ہوتے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور پارلیمانی قائد فاروق ستار نے متحدہ کے بانی و قائد کیخلاف قراداد پیش کئے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بقا کے نام پر ایک نہیں کئی بار قربانی دی، آئین اور قانونی تقاضے پورے کرکے کاروائی کی جائے، ہمارے دفاتر غیر قانونی ہے تو ہمیں بتائیں ہم خود گرائیں گے، ہم غیر قانونی تھانوں کے بارے میں بات نہیں کررہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ متحدہ قائد کے بیان پر ہم ان سے الگ ہوئے اور بانی و قائد سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرچکے، ہم نے متحدہ کے آئین میں ترمیم بھی کردی، متحدہ کے پاس مینڈیٹ پاکستان زندہ باد کا ہے، متحدہ بانی نے پاکستان زندہ باد کے نعرے سے انحراف کیا،

انھوں نے کہا کہ سندھ کے شہری علا قوں کے مسائل حل ہونے چاہئیں، پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو مجرم بناکر پیش نہ کریں۔

مینڈیٹ کی بات کر نے والے 2018کا انتظار کریں

فاروق ستار نے کہا کہ فریش مینڈیٹ کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں، پارلیمان میں کسی نے فریش منڈینٹ کی بات نہیں کی، مینڈیٹ کی بات کر نے والے 2018کا انتظار کریں، وزیر اعظم یا کسی سیاسی جماعت نے غداری کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم نے لندن سے بالکل لاتعلق ہے، جنوبی افریقہ سے کوئی آتا ہے تو پکڑلیں، زبردستی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

زبردستی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے

بائیس اگست کے حوالے سے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم نے اے آر وائی نیوز پر حملے کی مذمت کی تھی اور 22 اگست کے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

مصطفی کمال سے متعلق فاروق ستار نے کہا کہ مصطفی کمال کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک وقت میں دو باتیں کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں