The news is by your side.

Advertisement

کراچی: باغ جناح گراؤنڈ میں ایم کیو ایم کا پاور شو، سندھ حکومت پر کڑی تنقید

میری پریس کانفرنس کے خلاف پی پی نے سندھ اسمبلی میں قرارداد پاس کرائی: خالد مقبول

کراچی: شہر قائد کے باغ جناح گراؤنڈ میں ایم کیو ایم پاکستان نے پاور شو کا مظاہرہ کیا، متحدہ رہنماؤں نے جلسے سے خطاب میں سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے باغ جناح گراؤنڈ میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان بنانے والوں کو نوکریوں سے نکالا گیا، پاکستان بنانے کا مقصد حاصل کر کے رہیں گے۔

رہنما ایم کیو ایم پاکستان کا کہنا تھا کہ آج کا جلسہ دیکھ کر مخالفین کی ہمت ٹوٹ جائے گی، جلسہ دیکھ کر بتائیں کیا ایم کیو ایم تقسیم ہو گئی؟ ہم خوش نصیب تھے کہ ہمیں آزادی حاصل ہوئی، آگ اور خون کے دریا عبور کر کے پاکستان حاصل کیا، قدر اس چیز کی ہوتی ہے جس کی قربانی دی جائے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے ملک توڑا گیا پھر اسے تباہ کرنے کی سازش کی گئی، میری پریس کانفرنس کے خلاف پی پی نے سندھ اسمبلی میں قرارداد پاس کرائی، سندھ کو لسانی طور پر 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا، قرارداد مذمت لانی ہے تو کوٹہ سسٹم لانے والوں کے خلاف لاؤ، سندھ کو تقسیم کرنے والوں کے خلاف لاؤ۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان جس مقصد کے لیے بنا تھا اسے حاصل کر کے رہیں گے، یہ مشین ہمارے ہاتھ کی بنی ہوئی ہے، اسے ہم ہی چلا سکتے ہیں۔

رہنما عامر خان نے خطاب میں کہا کہ یہ کہتے ہیں سندھ ہمیشہ سے ایک رہا، جھوٹ بولتے ہیں، میری خود کی اپنی زمین پر سندھ کے لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، سندھ کے 24 شہر ہیں جو ہمارا حصہ ہے وہ لے کر رہیں گے۔

انھوں نے کہا ’سندھ میں ہوگا کیسے گزارا،  آدھا تمھارا  آدھا ہمارا ، جو لوگ دفن کرنے کی بات کرتے تھے آج وہ خود دفن ہو گئے۔‘

 جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فیصل سبزواری نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھی بھائیوں کو دھوکا دیتی ہے، تمام وزارتیں ہونے کے باوجود صوبہ سندھ کی ابتر حالت سب کے سامنے ہے، یہ سندھ کے بیٹے ہوتے تو سندھ کو بھی خوش حال صوبہ بناتے۔

کراچی کے میئر وسیم اختر نے کہا کراچی پورا ملک چلاتا ہے، اس کے ساتھ صحیح سلوک نہیں ہوتا، مشکلات کے باوجود بلدیاتی نمائندے نظام میں رہ کر خدمت کر رہے ہیں، مل کر کام کرنے تک کراچی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ کس طرح ہم مسائل حل کر سکتے ہیں، لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا، مجبوراً عدالت کو مداخلت کرنا پڑی کہ مسائل کیسے حل کیے جائیں۔

خواجہ اظہار نے کہا کہ یہ کونسی 18 ویں ترمیم ہے جو آپ کو کراچی میں کام سے روکتی ہے، میں وفاق سے مطالبہ کروں گا کہ ہماری توقعات کو آگے لے کر چلے، جس کے پاس ٹیم ہی نہیں ہے کیا وہ کراچی کی قیادت کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ میں یہ نہیں کہتا کہ لاڑکانہ کے نوجوانوں کو نوکریاں نہ ملیں لیکن یہ کیا ظلم ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں نوکریاں نہیں ملتیں، امید ہے آنے والے وقت میں ایم کیو ایم کی حیثیت کو سمجھا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں