اسٹیبلشمنٹ ماضی کی تلخ باتوں کو نظرانداز کرکے مہاجروں کے زخموں پر بھی مرہم رکھے، رابطہ کمیٹی -
The news is by your side.

Advertisement

اسٹیبلشمنٹ ماضی کی تلخ باتوں کو نظرانداز کرکے مہاجروں کے زخموں پر بھی مرہم رکھے، رابطہ کمیٹی

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک اہم پالیسی بیان میں واضح کیا ہے کہ ایم کیوایم کل بھی ایک محب وطن جماعت تھی اور آج بھی ہے اور پاکستان سے اس کی وابستگی غیرمشروط طورپر ہمیشہ جاری رہے گی ۔

رابطہ کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ وہ وطن عزیز کے مفاد میں طاقت اور جذبات کے بجائے حقائق کی روشنی میں تمام معاملات کا جائزہ لے ۔ آج جس طرح ریاست سے ناراض بلوچوں کیلئے معافی کا اعلان کیاجارہا ہے ، جوکہ ایک انتہائی مستحسن اقدام ہے ، اسی طرح اسٹیبلشمنٹ ماضی کی تلخ باتوں کو نظرانداز کرکے مہاجروں کے زخموں پر بھی مرہم رکھے اور انہیں قومی دھارے سے باہر نکالنے کا عمل نہ کرے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ یہ عمل ملک وقوم کے مفادمیں ہوگا اور اس عمل کو ایم کیوایم کا مکمل تعاون حاصل ہوگا۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ بعض میڈیارپورٹس اور اخباری اطلاعات میں ایم کیوایم سے وابستہ بعض افراد کے بھارت سے تعلقات کا تذکرہ کیا جارہا ہے، جن کی وضاحت ضروری ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ 19، جون1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف جو ریاستی آپریشن شروع کیا گیا، اس کے دوران کی جانے والی ناانصافیوں کی تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ اس آپریشن میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو جس طرح ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا، اس کے پیشِ نظر ہزاروں کارکنان اپنی جانیں بچانے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی جانے پر مجبور ہوئے، جہاں انہوں نے پناہ حاصل کی، ان ممالک میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سمیت دنیا کے تمام ممالک شامل ہیں۔ جہاں ان کارکنوں نے دنیا کے دیگر ممالک کا رخ کیا وہاں بعض کارکنوں کو جب کہیں اور جانے کا موقع نہ ملا تو انہوں نے محض اپنی جانیں بچانے کیلئے بھارت کا رخ بھی کیا۔

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج بھی پاکستان سے زیادہ مسلمان ، ہندوستان میں آباد ہیں کیونکہ 1947ء میں ہندوستان کی صرف زمینی تقسیم نہیں ہوئی تھی بلکہ خاندانوں کا بٹوارہ بھی ہوا تھا، خاندانوں کی بھی تقسیم ہوئی تھی، آج بھی پاکستان میں رہنے والے مہاجروں کے رشتہ داروں کی بڑی تعداد بھارت میں رہتی ہے، چناچہ بعض کارکنوں نے محض اس وجہ سے بھارت کا انتخاب کیا کہ کم ازکم وہاں ان کو رہنے کی جگہ تو میسر ہوگی اور انہیں بے گھری وفاقہ کشی کی زندگی نہیں گزارنی پڑے گی۔

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اپنی جانیں بچانے کیلئے بھارت سمیت دیگر ممالک جانے والوں نے نہ تو ایم کیوایم کے مرکز سے اجازت لی اور نہ ہی اس عمل کو کسی طرح ایم کیوایم کی پالیسی کا حصہ قراردیاجاسکتا ہے، بھارت جانے والے افراد سے منسوب کردہ تربیت وغیرہ کے معاملات کا بھی ایم کیوایم کے مرکز یا اس کی پالیسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ایم کیوایم ، بانیان پاکستان کی اولادوں کی قائم کردہ جماعت ہے اور وطن عزیز کے خلاف کوئی منصوبہ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں