بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ -
The news is by your side.

Advertisement

بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

اسلام آباد : اسپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے ایم کیوا یم کے رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی کو بولنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے مائک بند کرادیا جس پر ایم کیو ایم کے اراکین قومی اسمبلی نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم کی موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے متحدہ رہنما خالد مقبول صدیقی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت مانگی جسے اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق نے مسترد کردیا جب کہ رکن قومی اسمبلی کی جانب سے اپنی بات جاری رکھنے پر مائیک بند کروادیا۔

ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی نے متحدہ کے دفاتر کی مسماری،کارکنان کی گرفتاری اور اغوا سمیت کئی درپیش مسائل پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرنا چاہتے تھے تا ہم اسپیکر قومی اسمبلی نے مائیک بند کر کے انہیں بولنے سے روک دیا جس کے بعد متحدہ کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے اجلاس سے ”واک آؤٹ” کیا۔

اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد قومی اسمبلی کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے بتایا کہ اپنے مسائل وزیر اعظم کو بتانا چاہتے تھے مگر موقع نہیں دیا گیا متحدہ کے کارکنوں کو مختلف مقدمات میں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا جا رہا ہے سو سے زائد کارکنوں کو گھروں سے اٹھا یا گیا جنہیں مخالف سیاسی جماعت میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اگر ملک میں قانون کی حکمرانی اور بالادستی ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔

حیدرآباد سے منتخب رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی نے سوال کیا کہ کیا دوسر ی پارٹی میں جانے والے کے جرائم دھل جاتے ہیں؟ اور وہ ہر طرح کے الزامات سے بری ہو جاتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے اسی لیے وزیرا عظم سے انصاف مانگنا چاہ رہے تھے مگر افسوس ہماری آواز کو بلڈوز کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ تیس سال سے گاہے بہ گاہے ہمارے خلاف آپریشن کیا جاتا ہے لیکن تیس برس میں ہمارے کسی کارکن یا رہنما پر کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکااور ہر بار یہی ثابت ہوا کہ آپریشن جرائم کو نہیں ایم کیو ایم کو ختم کرنے کے لیے ہوئے۔

خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں قائم حالیہ امن و امان کو جعلی اور عارضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ جمہوری دور میں سیاست کرنے پر قدغن لگائی جا رہی ہے ایم کیو ایم کے درجنوں دفاتر گرائے جا رہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ دفاتر غیر قانونی تھے جب کہ 80 فیصد دفاتر جائز اور خریدی گئی اراضی پر قائم تھے

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہی نہیں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کو بھی بند کر دیا گیا ہے جہاں منتخب نمائندے چوبیس گھنٹے عوام الناس کے لیے دستیاب ہوتے تھے اور لوگوں کے مسائل سنے جاتے تھے انہیں حل کیا جاتا تھا مگر اسے بھی تالے لگا دیے گئے ہیں کیا وہ غیر قانونی اراضی پر قائم تھے؟

ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک میں سیاسی جماعت کی حکومت قائم ہے اور کہا جاتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا راج ہے لیکن اس جمہوری حکومت کے وزیر اعظم کے پاس اتنا بھی وقت نہیں ہے ملک کی چوتھی بڑی اور کراچی کی نمائندہ جماعت کے مسائل سن سکتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں