The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم اس سال کھالیں جمع نہیں کرے گی،فاروق ستار

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے اس سال قربانی کی کھالیں جمع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

MQM announces not to collect hides of… by arynews

پی آئی بی کالونی میں قائم ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر سینیٹرنسرین جلیل کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے اس سال کھالیں جمع نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے اس سال کھالیں ایدھی فاؤنڈیشن،ایس آئی یو ٹی،چھیپا اور جعفریہ ڈیزاسٹرسیل کو دیں۔

سربراہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہماری فلاحی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،2005 کا زلزلہ ہو یا سونامی یا افریقی ممالک میں درپیش انسانی المیے سے متعلق مسائل ہوں ایم کیو ایم نے ہمیشہ متاثرین کی مدد کی تاہم اب فلاحی ذمہ داریاں اورسرگرمیاں اللہ کے سپرد کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگ اپنی مرضی سے کھالیں دیا کرتے تھے جنہیں ٹرکوں میں ڈال کربڑی محنت سے مرکز ایا جاتا،تمام کھالوں کو نمک لگا کر محفوظ کر کے فروخت کیا جاتا جس کے بعدان کھالوں سے حاصل رقوم سے فلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھا جاتا تھا۔

تاہم گزشتہ برس ہم نے بڑی محنت سے کھالیں جمع کیں اور نہایت ذمہ داری سے ٹرکوں کے ذریعے مرکزی کیمپ منتقل کر رہے تھے کہ ایک ادارے نے آکر یہ کھالیں ضبط کر کے کسی اور ویلفیئر ادارے کو دے دیں اس لیے اس سال ہم اپنی مرضی سے لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ کھالیں کسی اور ادارے کو دے دیں تا کہ کسی کو کوئی ایشو نہ رہے۔

فاروق ستار نے رواں سال فلاحی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مخیر حضرات سے ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے چلانے کی درخواست بھی کی انہوں نے کہا کہ ہم دوسرے اداروں کو فلاحی کاموں کیلئے کھلا راستہ دے رہے ہیں۔

سربراہ ایم کیو ایم نے خدمت خلق فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ادارے نے سیلاب اورزلزلہ متاثرین تک مدد کی جبکہ بیرونی ممالک میں پیش آنے والی قدرتی آفات میں بھی حصہ لیا مگر اس وقت خدمت خلق فاؤنڈیشن کے بینک اکاؤنٹ سب سے نچلی سطح پر ہیں اور بری طرح متاثرہیں۔

واضح رہے کہ 1978 میں اے پی ایم ایس او کے قیام کے ساتھ ہی خدمت خلق کمیٹی قائم کی گئی تھی اور تب سے اب تک بلا تعطل خدمت خلق فاؤنڈیشن اپنی فلاحی سرگرمیوں کے لیے کھالیں،زکوۃ،فطرہ اور چندہ جمع کرتی آئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں