متحدہ کا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا، مذاکرات جاری -
The news is by your side.

Advertisement

متحدہ کا وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا، مذاکرات جاری

کراچی : شہر قائد میں پانی کی قلت کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے دھرنے کے دوران سندھ حکومت کا وفد ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں فریقین سے مذاکرات کے لیے پہنچ گیا، ایم کیو ایم کی جانب سے مذاکرات کے لیے خالد مقبول صدیقی، سلمان مجاہد بلوچ، خواجہ اظہار الحسن اور محمد حسین کو نامزد کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ اگر حکومت سندھ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو اُسے عہدوں پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ سندھ حکومت پانی فروخت کرکے پیسہ کما رہی ہے اور پھر اسی پیسے سے دبئی میں جائیدادیں خریدی جاتی ہیں، ایم کیو ایم کے نامزد میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ہمیں اختیارات نہیں دیے جارہے، پانی نہ دے کر کراچی پر ظلم کیا جارہا ہے،کراچی کے ساتھ ساتھ پورے سندھ کو پانی دلوائیں گے،خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت تمہارا خرچہ بند ہونے والا ہے،  جو آزادی دلواسکتے ہیں وہ آزادی چھین بھی سکتے ہیں، خواجہ اظہار کا کہنا تھا کہ دنیا ترقی کررہی ہے اور کراچی کا پانی تک بند ہے۔

ترجمان وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے سبب ریڈ زون میں کسی جماعت کو جلسہ جلوس کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ایم کیو ایم کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے اعلان کے بعد وزیر اعلٰی ہاؤس جانے والے تمام راستے بند کردیئے گئے تھے۔

راستے بند ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کے کارکنان کی بڑی تعداد پریس کلب کےباہر جمع ہوگئی جہاں پر قیادت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر ہر صورت میں مظاہرہ کیا جائے گا۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے وزیر اعلی ہاؤس پیش قدمی کے بعد پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔

وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب تعینات پولیس اہلکاروں کو مستعد کردیا گیا ہے اور اعلیٰ حکام کی جانب سے پولیس کو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے کہ مظاہرین کسی بھی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس نہ پہنچ سکیں۔

وزیر اعلی ہاؤس کے قریب کنٹینرز لگا کر سڑک کو سیل کردیا گیا ہے اور اُن پر اسپیشل فورس کے اہلکاروں کو الرٹ کردیا گیا ہے، مظاہرین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی جارہی ہے۔

پولیس حکام سے مذاکرات کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے کنٹینرز کی دوسری جانب اپنے کارکنان کو بٹھانا شروع کردیا ہے، پولیس حکام نے متحدہ کی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر کسی نے حد کو عبور کرنے کی کوشش کی تو اُسے گرفتار کرلیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں