The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کا پاورشو: “ہمیں رہنما نہیں، منزل چاہیے” کا نعرہ

پیپلزپارٹی پر کڑی تنقید، ایم کیو ایم کو مائنس کرنے کا الزام، چیف جسٹس اور چیف الیکشن کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی: آج کے جلسے نے مخالفین کی نیندیں حرام کر دیں، ہمیں رہنما نہیں منزل چاہیے، یہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کا جلسہ ہے، ایک اکائی ہیں، مقصد بھی ایک اور راستہ بھی ایک ہے.

ان خیالات کا اظہار ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے ٹنکی گراؤنڈ میں ہونے والے جلسے میں کیا، تفصیلات کے مطابق آج ایم کیو ایم نے کراچی میں‌ پاور شو کیا، جس میں‌ فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید جمیل سمیت دیگر رہنما نے خطاب کیا.

یاد رہے کہ چند روز قبل پیپلزپارٹی نے ٹنکی گراؤنڈ میں‌ جلسہ کیا تھا، جس کے بعد ایم کیو ایم بہادر آباد اور پی آئی بی گروپس اختلافات بھلا کر ایک ہوگئے اور 5 مئی کو جلسے کا اعلان کیا۔ جلسے سے قبل یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ آخری تقریر کون کرے گا۔

یہ سوال اس وقت دم توڑ گیا، جب خالد مقبول صدیقی فاروق ستار سے قبل مائیک پر آئے۔ فاروق ستار کی آمد پر تمام رہنماؤں اور شرکا نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔

یم کیوایم کا ووٹ بینک رہنماؤں کو الگ نہیں ہونے دے گا: ڈاکٹر فاروق ستار

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے جلسے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ایک تاریخی جلسہ کریں گے، پیپلزپارٹی کے جلسے کے جواب میں ہماری خواتین ہی کافی تھیں، جلسے میں اتنا کرنٹ ہے کہ پورے ملک کی بجلی پوری ہوجائے، یہ پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کا جلسہ ہے.

ایم کیوایم پاکستان کا ووٹ بینک ایک تھا، ایک ہے، ایک رہے گا، ہم نےکہا تھا، 1986کی ایم کیوایم بنائیں گے

فاروق ستار

انھوں نے کہا کہ 10 سال سے ہم بولنگ کرا رہےتھے، اب ہماری بیٹنگ کاوقت آگیا، میرے ساتھیوں نے ایک ایک سوال کا کرارا جواب دیا،ہمیں پاپا، پھوپھو اورپپوپارٹی نے للکارا، انھوں نے اب تک بے نظیربھٹو کے قاتلوں کو نہیں پکڑا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم پاکستان کا ووٹ بینک ایک تھا، ایک ہے، ایک رہے گا، ہم نےکہا تھا، 1986کی ایم کیوایم بنائیں گے، 23 اگست کو پارٹی کوبچایا تھا، 40 سال کی محنت کو بچایا، ایم کیوایم کا ووٹ بینک رہنماؤں کو الگ نہیں ہونے دے گا، ہمیں آج بھی کوٹا سسٹم کی چکی میں پیسہ جارہاہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ جو کہتے تھے کہ ایم کیوایم  کے ٹکڑے ہوگئے، وہ آکر دیکھ لیں، ابھی توصرف ٹریلرچلا ہے، فلم باقی ہے، لیاقت آبادمیں جوچیلنج دیا گیا تھا، اسےقبول کرتے ہیں، ہم سے وفا نبھانے والوں کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، صبح کا بھولا شام کو واپس گھر آجائے، اسے بھولا نہیں کہتے، جتنی وفاداریاں تبدیل ہونی تھی ہوگئیں۔

انھوں نے کہا کہ 9ارب روپے کا حساب وسیم اخترنہیں، میں دوں گا، ہم چاہتے تھے کہ کوئی تو ہمیں للکارے اورمقابلہ ہو، سینیٹ میں ہمیں ہماری حق نمائندگی سے دور رکھا گیا، مردم شماری میں ہماری آبادی کو کم دکھایا گیا، چیف الیکشن کمشنر صاحب، انجینئرنگ ہورہی ہے، مائنس ایم کیوایم الیکشن کی کوشش کی جارہی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ابھی توراؤانوارکا چالان بھی عدالت میں آنےوالا ہے، نقیب اللہ محسود کے ساتھ ساتھ  میرے ہیرو اور میرے بچوں کو بھی انصاف ملنا چاہیے، راؤانوارتو پہلا گواہ ہے، عزیربلوچ کےبیانات بھی عدالتوں میں جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ 29اپریل کوٹنکی گراؤنڈ میں نوٹنکی کی گئی، 2018 میں وزیراعلیٰ سندھ ایم کیوایم کا ہوگا۔

طاقت ہماری تہذیب نہیں، تہذیب ہماری طاقت ہے: خالد مقبول صدیقی

پارٹی کے سینئر رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بزرگوں اور ساتھیوں نے کہا کہ ایک ہوجاؤ، مگر ایک ہونا کافی نہیں، نیک ہونا بھی لازمی ہے، خود کو سنبھالیں گے، تو تحریک اور قوم کو سنبھال سکیں گے.

ہماری شرافت کو ہماری کمزوری سمجھا گیا، طاقت ہماری تہذیب نہیں، تہذیب ہماری طاقت ہے

خالد مقبول صدیقی

انھوں‌ نے کہا کہ آج کا یہ جلسہ ایم کیو ایم کے منشور کے اعلان کے لئے نہیں ہے، سلام لیاقت آباد والوں پر جہاں آج بھی نظریہ پاکستان زندہ ہے.

انھوں نے پیپلزپارٹی کے جلسے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جلسہ تھا، وہاں کرفیو لگا ہوا تھا، مخالفین ٹنکی گراؤنڈ جلسہ کرنے نہیں، مکر کرنے آئے تھے.

انھوں نے طنز کیا کہ ہم شریف کیا ہوئے، ہماری شرافت کو ہماری کمزوری سمجھا گیا، طاقت ہماری تہذیب نہیں، تہذیب ہماری طاقت ہے، آج کے جلسے نے مخالفین کی نیندیں حرام کردی ہیں، ایک اکائی ہیں، مقصد بھی ایک اورراستہ بھی ایک ہے.

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم دکھایا گیا، پورا پاکستان کراچی آرہا ہے اور کراچی کی آبادی کم ہورہی ہے، چیف جسٹس اس معاملے کا نوٹس لیں.

انھوں نے کہا کہ پاکستان کواپنی دھرتی ماں سمجھتے ہیں، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کو دھرتی ماں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اب سب کارن ہیں، کوئی رہنما نہیں، ہمیں رہنما نہیں منزل چاہیے.

کامران ٹیسوری کی نشست کہاں تھی؟

ایم کیو ایم پاکستان میں تنازعات کی وجہ تصور کیے جانے والے کامران ٹیسوری سے متعلق بھی سوالات اور افواہیں گردش کر رہی تھیں، اسی وجہ سے تمام نظریں کامران ٹیسوری پر مرکوز تھیں۔

جلسے میں کامران ٹیسوری وی آئی پی کے بجائے عام گیٹ سے تلاشی کے بعد اندر داخل ہوئے، انھوں نے کہا کہ وہ دیگر کارکنوں کے ساتھ آئے ہیں۔

کامران ٹیسوری اسٹیج کے نزدیک علی رضا عابدی اور دیگر کے ساتھ، عام نشستوں پر بیٹھے نظر آئے، انھوں نے ایم کیو ایم کی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ فاروق ستار کی آمد کی موقع پر دیگر کے ساتھ انھوں نے بھی کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔


پیپلزپارٹی کے جلسے نے ایم کیو ایم کے دھڑوں کو ایک کر دیا، بہادر آباد میں‌ اہم بیٹھک


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں