The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کی درخواست مسترد، سرکاری ملازمتوں پر حکم امتناع واپس

سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں پر حکم امتناع واپس لے لیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے ملازمتوں سے متعلق ایم کیو ایم کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سرکاری ملازمتوں پر حکم امتناع واپس لے لیا ہے اور اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ کیس فل بیچ تشکیل کیلیے چیف جسٹس کو بھیجا جائے، کوئی قانونی جوازموجود نہیں لیکن درخواست کی 8 سماعتیں ہوچکی ہیں، درخواست گزار وکیل سے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کیے لیکن وکیل نے دلائل دینے کے بجائے بینچ سے متعلق توہین آمیز ریمارکس دیے۔

تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار وکیل کی جانب سے بینچ اور عدلیہ کی توہین کی گئی، وکیل 15 سے 20 منٹ مسلسل توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے رہے،انہیں بار بار خاموش رہنے کا کہا گیا مگر وہ مسلسل بولتے رہے۔

عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ درخواست گزار وکیل کا رویہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا کہا ساتھ ہی کہا کہ وکیل کی کم عمری کی وجہ سے سخت کارروائی نہ کی جائے۔

تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکیل کو تنبیہ کی گئی ہے کہ آئندہ عدالت میں ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے، بصورت دیگر درخواست گزار وکیل کو قانونی کاروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

واضح رے کہ ایم کیو ایم نے سندھ کے مختلف محکموں میں 21 ہزار سے زائد آسامیوں پر پسند افراد کو بھرتی کرنے کے خلاف درخواست دی تھی اور عدالت نے حکومت کو 21 ہزار سرکاری ملازمتوں کی فراہمی سے روک رکھا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں: سندھ میں نئی بھرتیوں پر اسٹے آرڈر برقرار

ایم کیو ایم کی جانب سے درخواست گزاروں میں ایم این اے کشور زہرہ کے علاوہ ایم پی ایز ہاشم رضا، غلام گیلانی، جاوید حنیف اور وسیم الدین قریشی بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں