The news is by your side.

Advertisement

سابق ملکہ حسن نے موجودہ فاتح سے زبردستی تاج چھین لیا

سری لنکا میں مقابلہ حسن کی تقریب اس وقت کسی ڈرامے کے اسٹیج میں تبدیل ہوگئی جب موجودہ ملکہ حسن نے رواں برس کی فاتح کے سر سے زبردستی تاج اتار لیا۔

سری لنکا میں ہر سال شادی شدہ خواتین کے لیے مسز سری لنکا کا مقابلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں حصہ لینے والی خواتین کے لیے شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔

تاہم رواں برس جب اس مقابلے کی فاتح پشپکا ڈی سلوا نامی حسینہ کو قرار دیا گیا تو سال 2019 کی فاتح کیرولین جوری اسٹیج پر آئیں اور انہوں نے مائیک پر اعلان کیا کہ یہ مقابلہ شادی شدہ خواتین کے لیے ہے، مطلقہ خواتین کے لیے نہیں، اور اس کے بعد انہوں نے ڈی سلوا کو پہنایا گیا تاج زبردستی اتار لیا۔

مائیک پر سب کے سامنے اعلان کرتے ہوئے کیرولین نے کہا کہ میں انتظامیہ کو مقابلے کا وہ قانون یاد کروانا چاہتی ہوں جس کے تحت مقابلے میں حصہ لینے والی خاتون کو شادی شدہ ہونا چاہیئے، طلاق یافتہ نہیں۔

اس کے بعد انہوں نے از خود دوسری رنر اپ کو فاتح قرار دیا، خود ہی ڈی سلوا کی طرف بڑھیں اور ان کے سر سے زبردستی تاج اتار کر رنر اپ کو پہنا دیا۔ اس دوران منتظمین میں سے کسی نے انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی جبکہ اس ہتک آمیز سلوک کے بعد ڈی سلوا روتی ہوئی اسٹیج سے چلی گئیں۔

اس چھینا جھپٹی کے دوران ڈی سلوا کو چوٹیں بھی پہنچیں جس کے بعد انہیں اسپتال جانا پڑا، بعد ازاں پولیس نے بھی ہنگامہ آرائی کرنے والی سابق ملکہ حسن کیرولین کو گرفتار کرلیا۔

معاملے کے ایک روز بعد مقابلے کے منتظمین نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈی سلوا کو ہی فاتح قرار دیا اور کہا کہ ان کے مطلقہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی لہٰذا رواں برس کی فاتح وہی ہیں۔

انتظامیہ نے سابق ملکہ حسن کے رویے پر معافی مانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس تمام واقعے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

دوسری جانب رواں برس کی فاتح ڈی سلوا کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے شوہر سے علیحدہ ضرور رہ رہی ہیں تاہم ابھی طلاق نہیں ہوئی۔

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں میری طرح کی بہت سے سنگل مائیں ہیں جنھیں بہت کچھ سہنا پڑ رہا ہے۔ یہ تاج وہ ایسی ہی خواتین کے نام کرتی ہیں جنہیں اپنے بچوں کی اکیلے پرورش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ہتک آمیز اور غیر مناسب رویے کے خلاف جس کا انہیں اسٹیج پر سامنا کرنا پڑا، قانونی کارروائی کریں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں