ہفتہ, اپریل 11, 2026
اشتہار

پاکستان میں پائے جانے والے مڈ اسپائنی لابسٹر کی پہچان، صحت بخش فوائد اور مکمل معلومات

اشتہار

حیرت انگیز

لابسٹر کا شمار سمندر کی مہنگی ترین غذاؤں میں ہوتا ہے اور یہ ایک اہم مہنگی سمندری صنعت بھی ہے۔ مہنگی صنعت ہونے کے باوجود بھی اس سے منافع کم ہوتا ہے کیوں کہ اس کا تجارتی حجم مچھلیوں جتنا نہیں بلکہ مچھلیوں سے کافی کم ہوتا ہے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد میں مڈ اسپائنی لابسٹر (mud spiny lobster) پایا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام پَنولیرس پولیفیگس (Panulirus polyphagus) ہے، کراچی فشری میں زیادہ تر یہی لابسٹر نظر آتا ہے۔

پاکستان جرنل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں چھپی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں لابسٹر کی 16 اقسام پائی جاتی ہیں، کل پکڑے جانے والے لابسٹروں میں سے 83 فی صد مڈ اسپائنی لوبسٹر ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1993 سے 2004 کے دوران 615 سے 1077 میڑک ٹن لوبسٹر پکڑے گئے، اور اس کے برآمدات میں سے پاکستان نے تقریباً 75.8 ملین امریکی ڈالر کمائے۔

لابسٹر مہنگا ہونے اور شوق کم ہونے کے سبب پاکستان میں کم کھایا جاتا ہے، جب کہ زیادہ تر زندہ اور منجمد ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔

شناخت


یہ ہلکے ہرے رنگ کا ہوتا ہے اور اس کی خاص شناخت پورے جسم پر بڑے بڑے کانٹے (spines) ہوتے ہیں۔ انٹینا بہت لمبے اور موٹے ہوتے ہیں۔ دیگر لابسٹرز کے برعکس اس کے بڑے پنجے (claws) نہیں ہوتے۔ یہ عام طور 15 انچ تک لمبائی میں بڑھتے ہیں لیکن 18 انچ تک بھی بڑھ سکتے ہیں۔ وزن میں ڈیڑھ کلو تک بڑھتے ہیں لیکن یہ 2 کلو تک بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہ 5 سے 8 سال تک جی سکتے ہیں۔ ان کا گوشت جوسی، ذائقے دار ہلکا میٹھا ہوتا ہے۔

رہائش اور رہائشی ماحول


یہ لابسٹر انڈو-پیسیفک ریجن میں پایا جاتا ہے۔ اس کی جغرافیائی تقسیم جنوبی ایشیا میں پاکستان، بھارت، سری لنکا اور بنگلادیش؛ جنوب مشرقی ایشیا میں تھائی لینڈ، ملائیشیا، ویتنام، انڈونیشیا، فلپائن؛ مشرق وسطیٰ میں عمان، ایران، خلیج فارس کے ممالک اور مشرقی ایشیا میں جنوبی چین، تائیوان، جاپان کے (جنوبی حصے) شامل ہیں۔

یہ لوبسٹر عموماً کیچڑ یا ریتلی تہوں والے ساحلوں میں مینگرووز، ریف کے کناروں اور خلیجی علاقوں (bays) کے قریب رہتا ہے۔

خوراک


یہ لوبسٹر عموماً رات کو کھانا کھاتا ہے، اس کی خوراک میں زیادہ تر چھوٹے خول دار جان دار ہوتے ہیں، جنھیں molluscs کہتے ہیں مثلاً گھونگھے، سیپی وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ جھینگے، کیکڑے، سمندری کیڑے، مری ہوئی مچھلیاں اور سمندری تہہ پر موجود نامیاتی مواد جیسے گل سڑ چکا جان دار مادہ (detritus) بھی کھاتا ہے۔

یہ لابسٹر کون سی خوارک سے زیادہ صحت مند اور موٹا ہوتا ہے اس کے لیے بھارت میں ایک تحقیق کی گئی۔ 90 دن کی یہ تحقیق گجرات میں ماہوا کے قریب اکتاریا نامی گاؤں کے ایک سمندری علاقے میں کی گئی۔ تتائج کے مطابق جن لابسٹرز کو Molluscan (سخت خول والے جان دار) کھلائے گئے تھے وہ لوبسٹر سب سے زیادہ صحت مند اور موٹے تھے۔ اس لابسٹر کی فارمنگ سے وابستہ افراد اس تحقیق سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

شکار اور پیٹ میں دانت


یہ دن میں شکاریوں سے چپ کر رہتا ہے اور رات کو شکار پر نکلتا ہے۔ اس کی پسندیدہ خوراک سخت خول والے جان دار ہوتے ہیں۔ اس کے منہ میں دانت نہیں ہوتے بلکہ منہ کے اندر سخت تیز دھار چمٹا نما اعضا ہوتے ہیں، جنھیں مینڈیبلز کہا جاتا ہے۔ مینڈیبلز دو ہوتے ہیں جو منہ میں دائیں اور بائیں ہوتے ہیں یہ سخت خول کو اس سے کھرچ کھرچ کر اس میں چھوٹا خلا بنا کر اگلے پیروں سے خول سے شکار کھینچ لیتا ہے۔

اگر غلطی سے سخت خول کا کوئی ٹکڑا معدے میں چلا جائے تو اس کے لیے بھی اس کے پاس ایک خاص عضو ہوتا ہے، جسے Gastric Mill کہتے ہیں۔ گیسٹرک مل معدے کے اندر موجود 3 چھوٹے چکی جیسے دانت نما ساخت ہوتے ہیں، جو سخت کھانے کو پیسنے کا کام کرتے ہیں۔ یہ اصل دانت نہیں، بلکہ چٹان جیسے سخت ڈھانچے ہوتے ہیں جو کھانے کو چبانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ اتنے تیز اور سخت ہوتے ہیں کہ سخت خول کے ٹکڑوں کو بھی پیس کر پاؤڈر بنا دیتے ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ لابسٹر کے دانت اس کے منہ میں نہیں بلکہ پیٹ میں ہوتے ہیں۔

زندگی کا چکر یعنی لائف سائیکل


مادہ لابسٹر عام طور پر ایک سال میں متعد بار انڈے دیتی ہے اور یہ ماحولیاتی حالات (درجہ حرارت، خوراک، پانی کی نمکیات وغیرہ) پر منحصر ہوتا ہے۔ مارچ سے مئی تک انڈے دینے کا سیزن عروج پر ہوتا ہے۔ ایک مادہ ایک وقت میں لاکھوں انڈے (8 لاکھ تک) دے سکتی ہے۔ انڈوں کی تعداد مادہ کی عمر، صحت، موسم اور سمندری ماحول کے مطابق ہوتی ہے۔

ملاپ کا حیرت انگیز طریقہ


نر اپنے جسم میں spermatophore (منی کا پیکٹ) تیار کرتا ہے۔ یہ پیکٹ ایک چپچپے مادے میں بند ہوتا ہے تاکہ پانی میں ضائع نہ ہو۔ ملاپ کے وقت نر اور مادہ آمنے سامنے آتے ہیں نر اپنے سپرماٹو فور کو مادہ کے جسم پر sternal plate (سینے کے نیچے والے سخت حصے) پر چپکا دیتا ہے۔ یہ سپرماٹوفور پیکٹ عام طور پر دل نما یا بیضوی شکل میں ہوتا ہے اور صاف نظر آتا ہے۔

کچھ دن بعد جب مادہ انڈے دیتی ہے تو وہ انڈے اسی سپرماٹوفور پیکٹ سے گزر کر fertilize ہو جاتے ہیں، یعنی نر کے نطفے سے مل جاتے ہیں۔ یعنی نطفے کا ملاپ جسم کے اندر نہیں بلکہ بیرونی سطح پر ہوتی ہے۔

انڈے مادہ کے دم کے نیچے چپکے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کا رنگ پہلے نارنجی، پھر گہرا سرخ/بھورا ہو جاتا ہے۔ مادہ مسلسل ان پر پانی کے جھونکے چلاتی ہے تاکہ انڈوں کے پاس تازہ آکسیجن برقرار رہے اور انڈے خراب نہ ہو۔ تقریباً 10 سے 15 دنوں میں انڈوں سے لاروا نکل آتے ہیں۔ یہ لاروا تقریباً ڈیڑھ سے دو سال میں بالغ ہو کر تولید کے قابل ہو جاتے ہیں۔

ملائیشیا میں کی گئی ایک تحقیق


اسکول آف میرین سائنسز اینڈ انوائرنمنٹ، یونیورسٹی ملائیشیا ٹیرینگانو اور انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل ایکوا کلچر، یونیورسٹی ملائیشیا ٹیرینگانو کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق انڈوں والی ماداؤں کو پانی میں 3 مختلف درجہ حرارتوں پر رکھا گیا۔ 15 سے 20 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر رکھی جانے والی ماداؤں کے انڈے خراب ہو گئے اور لاروا نہیں نکلے۔

25 سے 28 سینٹی گریڈ درجہ حرارت سب سے بہترین رہی، انڈوں سے لاروا زیادہ تعداد میں نکلے اور لاروا کی حالت بہترین تھی۔ لاروا انڈوں سے 264 گھنٹے (11 دن) بعد نکلے۔ 30 سے 35 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر انڈوں سے لاروا 10 دن میں نکلے لیکن لاروا کی تعداد کم اور حالت بہترین نہیں تھی۔ یہ تحقیق بھی اس لابسٹر کی فارمنگ کے لیے بہت مفید ہے۔

بلوغت


امریکی حکومتی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ملائیشیا میں اس لوبسٹر کی بلوغت پر ایک تحقیق کی گئی تھی، جس کے نتائج میں پایا گیا کہ سن بلوغت کے وقت لابسٹر کا وزن 452 گرام اور Carapace کی لمبائی 4.213 انچ تھی۔ کیراپس لوبسٹر کے سر کے پیچے دم تک سخت خول ہوتا ہے۔ اور لابسٹر کو پکڑنے کے بعد اس کی قانونی حد ناپنے کے لیے کیراپس کو ایک آلے (caliper) سے ناپا جاتا ہے، اگر حد قانونی نہیں ہوتی تو پھر اسے پانی میں واپس چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں قانونی حد


پاکستان میں اسے پکڑنے کے لیے قانونی حد مقرر ہے، جو کہ 15 سینٹی میٹر کیراپس لمبائی ہے۔ یہ 5.906 انچ لمبائی بنتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انڈوں والی مادہ کو پکڑنا، فشری میں لانا یا بیچنا سختی سے منع ہے۔ لیکن افسوس کہ اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے متعلقہ ذمہ داران سنجیدہ نہیں ہیں۔ فشری میں آدھا کلو سے کم لابسٹر بھی آتے ہیں اور انڈوں والی مادائیں بھی، نتیجتاً لوبسٹر کی نسل میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

پاکستان میں لابسٹر کی صورت حال


ایک مقامی روزنامے کے مطابق سابق ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز ڈپارٹمنٹ محمد معظم خان نے کہا ہے کہ لابسٹرز کی پکڑ میں سالانہ کمی واقع ہو رہی ہے، اس کا شکار پاکستان میں غیر منظم ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں اس کے ذخیرے میں کمی کیوں واقع ہو رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ لوبسٹر کو بنیادی طور پر نیچے والے گِل نیٹ کے ذریعے پکڑا جاتا ہے جو کہ ایک اندھا دھند فشنگ گیئر ہے۔ یہ تمام سائز کے لابسٹروں کے ساتھ ساتھ دیگر غیر ٹارگٹ نسلوں کو بھی پکڑتا ہے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دوستانہ گیئرز جیسے لابسٹر ٹریپس کے استعمال کو استعمال کرنا چاہیے اور اس سے نیچے والے گِل نیٹ (trammel net) پر مکمل پابندی لگانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1990 کے خصوصی ماہی گیری زون کے قواعد کے مطابق انڈوں والی مادہ پکڑنے اور 15 سینٹی میٹر کیراپس لمبائی سے کم لمبا لابسٹر پکڑنے پر پابندی ہے، لیکن یہ عمل قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا روک ٹوک جاری ہے، جس کی وجہ سے لابسٹر اسٹاک میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی رپورٹ میں کچھ مچھیروں کی آرا بھی شامل ہیں۔ لابسٹر کیچ میں کمی سے متعلق رپورٹوں کی تصدیق کرتے ہوئے سندھ اور بلوچستان میں مقیم ماہی گیروں نے نشان دہی کی کہ چھوٹے جالوں کا بے تحاشا استعمال اور کئی سالوں کے دوران مچھلی پکڑنے والے جہازوں کے سائز میں بڑے پیمانے پر اضافہ لابسٹر کیچ میں کمی کا باعث بنا ہے۔

ماہی گیروں کا کہنا تھا کہ لابسٹر پکڑنا اب معاشی طور پر قابل عمل نہیں رہا، تین دہائیاں قبل جو لابسٹر کیچ ہوا کرتا تھا اس میں سے 5 فی صد بھی اب باقی نہیں ہے۔ جال کے ذریعے ٹرالنگ کی وجہ سے بھی پکڑ میں زبردست کمی آئی ہے کیوں کہ یہ سمندر کی تہہ سے ہر چھوٹی بڑی مخلوق نکال لے جاتی ہے۔

تحفظ کے لیے اقدامات کی ضرورت


امریکی ریاست فلوریڈا میں فلوریڈا اسپائنی لوبسٹر کے شکار کا سیزن 6 اگست سے 31 مارچ تک ہوتا ہے اور مارچ سے اگست تک اس کے پکڑنے پر پابندی ہوتی ہے، کیوں کہ یہ مہینے اس کی افزائش کے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی لابسٹر کی نسل برقرار رکھنے کے لیے اسی طرح کے سیزن کی ضرورت ہے، خاص طور پر تین مہینے اپریل، مئی اور جون میں لابسٹر کے شکار پر مکلمل پاںندی ہونی چاہییے کیوں کہ یہ افزائش کے پیک مہینے ہوتے ہیں۔

ساتھ ہی ساتھ چھوٹے جالوں پر پابندی لگانی چاہیے اور لابسٹر پکڑنے کے لیے صرف ریکٹ کی طرح ہاتھ میں پکڑے ٹریپ سے لابسٹر پکڑنے کی اجازت ہونی چاہیے، اگر مادہ انڈوں والی ہے یا کیراپس کی لمبائی 15 سینٹی میٹر (5.906 انچ) سے کم ہے تو لابسٹر کو فوراً چھوڑ دینا چاہیے۔ صرف ان ہی طریقوں سے لابسٹر کی بقا ممکن ہے کیوں کہ یہ ہمارے سمندری حیات اور برآمدات کا حصہ ہیں، نیز یہ سمندر میں مری ہوئی مچھلیاں اور گل سڑ چکا مواد کھا کر سمندر کی صفائی میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

بقا کی شرح


اس لابسٹر کے لیے بقا کی شرح (سروائیول ریٹ) کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے لیکن اسی نوع کے کچھ دوسرے اسپائنی لابسٹرز کے ڈیٹا کے مطابق لابسٹرز میں بقا کی شرح بہت کم 0.001 سے 0.002 فی صد ہوتی ہے۔ یعنی کہ اگر ایک مادہ 5 لاکھ انڈے دیتی ہے تو ان 5 لاکھ انڈوں میں سے صرف 5 یا پھر زیادہ سے زیادہ 10 بچے بالغ ہوتے ہیں اور باقی مرجاتے ہیں یا شکار کر لیے جاتے ہیں۔

کچرے کی شرح اور قیمت


کراچی فشری میں اسی ایک مڈ اسپائنی لابسٹر کو وزن کیا گیا تو یہ 1300 گرام تھا۔ سر ہٹانے کے بعد دم (لابسٹر میں کھانے والا حصہ) کا پھر وزن کیا گیا، اب وزن 500 گرام تھا۔ لیکن اس کے بعد دم کے خول سے گوشت نکال کر وزن نہیں کیا گیا۔

اسپائنی لابسٹر میں خول سمیت ٹوٹل دم کے وزن کا 40 سے 45 فی صد خول کا وزن ہوتا ہے۔ کم سے کم 40 فی صد کے حساب سے دم کے خول کا وزن 200 گرام بنتا ہے اس طرح جو ہمارے پاس فائنل وزن ہے وہ یہ ہے: 1300 گرام لابسٹر میں سے 300 گرام گوشت نکلتا ہے، یعنی کہ لابسٹر میں ویسٹیج کی شرح تقریباً 75 فی صد ہوتی ہے۔

قیمت کی بات جائے تو اس کی قیمت سائز اور کوالٹی کے حساب سے ہوتی ہے۔ زندہ لابسٹر بہت مہنگا ہوتا ہے جب کہ مرے ہوئے اسی مڈ اسپائنی لابسٹر کی قیمت کراچی فشری میں رواں مہینے (نومبر 2025) کے مطابق ایک کلو والے لابسٹر کی فی کلو قیمت 8000 روپے، 500 گرام والے کی 6000، 400 گرام والے کی 5000 اور 250 گرام سے 300 گرام والے لابسٹر کی قمیت 3000 روپے ہے۔

صحت بخش فوائد


خاص طور پر اسی مڈ اسپائنی لابسٹر کا الگ سے اس کے صحت بخش فوائد کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، مگر بھارت میں چار لابسٹروں پر مشتمل ایک تحقیق کی گئی ہے۔ یہ تحقیق ڈیپارٹمنٹ آف مرین لیونگ ریسورسز، کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آندھرا یونیورسٹی وشاکھاپٹنم انڈیا کی جانب سے کی گئی تھی۔ اس کے نتائج کے مطابق تمام لابسٹروں میں پروٹین اور کیلشیم کافی زیادہ پایا گیا جب کہ میگنیشیم کم سے کم ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری رپورٹوں کے مطابق لابسٹروں میں مجموعی طور پر وٹامنز اور منرل کی بھاری مقدار ہوتی ہے، جب کہ اومیگا 3 مچھلیوں کے مقابلے کم ہوتا ہے۔

مرکری لیول


اسی لابسٹر کے مرکری لیول کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، لیکن پاکستان میں پائے جانے والے ایک اور اسپائنی لابسٹر Panulirus homarus کی مرکری کا ریکارڈ ہے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ، امریکا کے مطابق ایران میں خلیج فارس کے مذکورہ بالا لابسٹر کے مرکری مواد پر تحقیق کی گئی۔ کئی علاقوں سے پکڑے گئے لابسٹروں کے مرکری مواد کے نتائج کے مطابق کم سے کم مرکری لیول 0.032Ppm اور زیادہ سے زیادہ 0.073Ppm تھا جو کہ کافی کم ہے۔ جب کہ امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے مطابق اسپائنی لابسٹر میں مرکری کا لیول 0.093Ppm ہوتا ہے۔

+ posts

فرید الحق حقی میرین لائف کے بارے میں تحقیقی مضامین لکھتے ہیں، اپنے شوق اور رجحان کی وجہ سے وہ سمندری حیات کے بارے میں آزادانہ طور پر تحقیق کرتے رہتے ہیں

اہم ترین

فرید الحق حقی
فرید الحق حقی
فرید الحق حقی میرین لائف کے بارے میں تحقیقی مضامین لکھتے ہیں، اپنے شوق اور رجحان کی وجہ سے وہ سمندری حیات کے بارے میں آزادانہ طور پر تحقیق کرتے رہتے ہیں

مزید خبریں